وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو تمام اصلاحات اور منصوبوں کومقررہ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت کرتے ہوئے عزم کا اظہار کیا ہے کہ بجلی کے شعبے میں مزید اصلاحات کے زریعے گھریلو صارفین اور صنعتوں کیلئے بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی لائی جائے گی ۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں بجلی کے شعبے میں اصلاحات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا ، اجلاس میں بجلی کے شعبےمیں اصلاحات کے آئندہ تین برس کے اہداف کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی ۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اللہ کے فضل و کرم سے بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے مثبت نتائج موصول ہو رہے ہیں ، گزشتہ 7 دہائیوں کا بگاڑ بہتر کیلئے وزارت اور متعلقہ ادارے کام کر رکے ہیں جو کہ انتہائی خوش آئند ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام سے وعدہ کیا تھا کہ کم لاگت اور ماحول دوست بجلی کی فراہمی یقینی بنائیں گے ۔ آئی پی پیز سے معاہدے پر نظر ثانی کے ذریعے قومی خزانے کو بچت اور صارفین کیلئے بجلی کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے ۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بجلی چوری کے خلاف جاری مہم سے تقسیم کار کمپنیوں کے خسارے میں بھی کمی آئی ہے جو کہ انتہائی خوش آئند اور وزارت پانی و بجلی اور معاون اداروں کی محنت کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی چوری کے خلاف جاری مہم مزید تیز کر کے تمام تقسیم کار کمپنیوں کے خسارے میں 100 فیصد تک کمی لائیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں نجی شعبے سےاچھی شہرت کے بورڈ ارکان کی تعیناتی سے بھی کمپنیوں کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے ۔ ایسی تقسیم کار کمپنیاں جن میں ابھی تک بورڈ تشکیل نہیں دئیے گئے ، ان میں بھی جلد نجی شعبے سے اچھی شہرت کے حامل بورڈ ارکان تعینات کر دئیے جائیں ۔
وزیرِاعظم کا مزید کہنا تھا کہ بجلی کے ترسیلی نقصانات میں کمی بھی اصلاحات کے مثبت نتائج کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بجلی کے شعبے میں اصلاحات سے گھریلو صارفین اور صنعتوں کیلئے ٹیرف میں مزید کمی لائیں گے ۔
اجلاس کو بجلی کے شعبے کی کارکردگی پر جامع بریفنگ بھی دی گئی اور بتایا گیا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات بجلی چوری کےخلاف جاری مہم کے نتیجے میں دسمبر 2024 تک تقسیم کار کمپنیوں کی وصولیوں میں بھی بہتری آئی ہے ۔
اجلاس کو گردشی قرضوں میں مرحلہ وار کمی کے لائحہ عمل، بجلی کی ترسیل کیلئے مسابقتی مارکیٹوں کے قیام، بجلی کے ٹیرف میں کمی اور دیگر اصلاحات کی معینہ مدت کے حوالے سے بھی آگاہی دی گئی ۔