زمین کی قدیم تاریخ سے متعلق ایک اہم سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پلیٹ ٹیکٹونکس کا آغاز تقریبا ساڑھے تین ارب سال پہلے ہو چکا تھا، جو زمین پر زندگی کے ارتقا کو سمجھنے میں آسانی پید اکر سکتے ہیں۔
یہ تحقیق راجر فو کی قیادت میں ہارورڈ یونیورسٹی میں کی گئی اور اسے معروف سائنسی جریدے سائنس میں شائع کیا گیا۔ اس میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی کہ زمین کی سطح پر پلیٹوں کی حرکت کب شروع ہوئی۔
سائنسدانوں کے مطابق، زمین کی بیرونی سطح مختلف چٹانی پلیٹوں پر مشتمل ہے جو مسلسل حرکت کرتی رہتی ہیں، اور یہی عمل پہاڑوں، سمندروں اور براعظموں کی تشکیل کے ساتھ ساتھ موسمی نظام اور زندگی کی بقا میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے آسٹریلیا کے علاقے ایسٹ پلبرہ کریٹن سے تقریبا 900 چٹانی نمونوں کا تجزیہ کیا، جو کروڑوں سال کے عرصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے پیلومگنیٹزم کا استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے چٹانوں میں محفوظ قدیم مقناطیسی معلومات کی بنیاد پر ان کی سابقہ جغرافیائی پوزیشن کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ چٹانیں ماضی میں 53 سے 77 درجے عرض بلد کے درمیان منتقل ہوئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین کی پلیٹیں مسلسل حرکت میں تھیں اور ان کی رفتار چند سینٹی میٹر فی سال تھی۔ اس کے علاوہ پلیٹوں کی نمایاں گردش بھی دیکھی گئی، جو ان کی آزادانہ حرکت کا ثبوت ہے۔
مزید تحقیق میں جنوبی افریقہ کے باربرٹن گرین اسٹون بیلٹ کا بھی جائزہ لیا گیا، جہاں چٹانیں نسبتا ساکن رہیں۔ ان دونوں خطوں کے تقابلی مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ زمین کی بیرونی پرت ایک مکمل ٹھوس خول نہیں تھی بلکہ مختلف پلیٹوں میں تقسیم ہو کر حرکت کر رہی تھی۔
ماہرین کے مطابق یہ تحقیق اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں قدیم ترین چٹانوں سے اعلیٰ معیار کا ڈیٹا حاصل کیا گیا، جس سے پلیٹوں کی “نسبتی حرکت” کا واضح ثبوت ملا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پلیٹ ٹیکٹونکس کے بغیر نہ تو پہاڑ وجود میں آ سکتے تھے، نہ سمندر بنتے اور نہ ہی وہ ماحولیاتی نظام تشکیل پاتا جو زندگی کے آغاز اور بقا کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے یہ تحقیق اس بنیادی سوال کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ زمین ایک بے جان سیارے سے ایک زندہ دنیا میں کیسے تبدیل ہوئی۔