ایک نئی سائنسی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ معیاری پودوں پر مبنی غذا دماغی بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، چاہے اس کا آغاز درمیانی عمر یا اس کے بعد ہی کیوں نہ کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق بہتر غذائی عادات اپنانے سے الزائمر اور ڈیمنشیا جیسے امراض کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وہ افراد جو غیر صحت بخش غذاؤں کا استعمال کم کر کے متوازن اور معیاری پودوں پر مبنی غذا اپناتے ہیں، ان میں دماغی بیماریوں کا خطرہ تقریباً 11 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر پودوں پر مبنی خوراک غیر معیاری ہو جیسے زیادہ چینی، ریفائنڈ آٹا اور پراسیسڈ اشیاء تو ڈیمنشیا کا خطرہ 25 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ “پلانٹ بیسڈ ڈائٹ” سے مراد صرف گوشت سے پرہیز نہیں بلکہ خوراک کا معیار بھی انتہائی اہم ہے۔ مکمل اناج، تازہ پھل، سبزیاں، دالیں اور میوہ جات دماغی صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں، جبکہ تلی ہوئی اور میٹھی اشیاء نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
یہ تحقیق تقریباً 93 ہزار افراد پر کی گئی جن کی اوسط عمر 59 سال تھی، اور دس سال تک ان کی صحت اور خوراک کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ معیاری نباتاتی غذا اپنانے والوں میں دماغی امراض کا خطرہ نمایاں طور پر کم رہا۔
ماہرین کے مطابق مکمل پھل کھانا جوس پینے سے زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس میں موجود فائبر خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صحت مند پودوں پر مبنی غذا نہ صرف دماغ بلکہ دل، بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے امراض کے خطرات کو بھی کم کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہے کہ غذا متوازن، قدرتی اور کم پراسیسڈ ہو، اور اچھی بات یہ ہے کہ صحت مند عادات اپنانے کے لیے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں۔