پشاور ہائیکورٹ نے نومنتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حلف برداری سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا کو ہدایت دی ہے کہ وہ کل شام 4 بجے تک سہیل آفریدی سے حلف لیں، بصورت دیگر اسپیکر صوبائی اسمبلی کو حلف لینے کا اختیار دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دائر درخواست پر سنایا گیا، جس میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے حلف نہ لینے پر عدالت سے مداخلت کی استدعا کی گئی تھی۔
پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا اور گورنر کے وکیل بیرسٹر عامر جاوید کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے۔
فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے کہا کہ آج جمہوریت اور قانون کی فتح ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبہ حالتِ جنگ میں ہے اور ہمیں اسے اس صورتحال سے نکالنے کے لیے متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سہیل آفریدی کے آنے سے صوبے میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے بھی عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ہمارا حق چھیننے کی کوشش کرے گا تو ہم ہر آئینی اور قانونی حد تک جائیں گے۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پارٹی چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر گزشتہ ہفتے وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا تھا، تاہم گورنر فیصل کریم کنڈی نے ابھی تک استعفیٰ منظور نہیں کیا۔
اس کے باوجود خیبرپختونخوا اسمبلی نے گزشتہ روز سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ منتخب کرلیا، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اس انتخاب کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ادھر جمعیت علمائے اسلام (ف) نے بھی وزیراعلیٰ کے انتخاب کے خلاف درخواست دائر کر دی ہے جسے پشاور ہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کر لیا گیا ہے۔
یہ درخواست جے یو آئی (ف) کے رہنما لطف الرحمٰن نے دائر کی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چونکہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ تاحال منظور نہیں ہوا، لہٰذا نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔
اس درخواست کی سماعت جسٹس ارشد علی اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل بینچ کرے گا۔