امریکی-اسرائیلی جنگ کے تناظر میں ایران کے ساتھ ہونے والی حالیہ جنگ بندی نے عالمی سطح میں وقتی سکون ضرور پیدا کیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس کے اثرات ابھی غیر یقینی ہیں اور بھارت سمیت کئی ممالک کے لیے اہم سوالات برقرار ہیں۔
بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی اسٹاک اور بانڈ مارکیٹس میں بہتری دیکھی گئی جبکہ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئیں۔ اسی طرح امریکی ڈالر بھی چار ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گیا، جس سے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا نظر آیا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بہتری عارضی ہو سکتی ہے کیونکہ بنیادی مسائل اب بھی موجود ہیں، جن میں جنگ بندی کی پائیداری، خطے میں کشیدگی، اور آبنائے ہرمز کی صورتحال شامل ہیں۔ خاص طور پر یہ سوال اہم ہے کہ آیا دنیا ایران کے اس مطالبے کو قبول کرے گی کہ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول تسلیم کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس اہم سمندری راستے میں پھنسے ہوئے تقریبا 800 جہاز کب تک اپنی منزل کی جانب روانہ ہو سکیں گے اور مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی فراہمی کب تک معمول پر آئے گی۔
اسی پس منظر میں ریزرو بینک آف انڈیا نے شرح سود 5.25 فیصد پر برقرار رکھی ہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 4.6 فیصد اور معاشی شرح نمو 6.9 فیصد رکھی گئی ہے۔ تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ توانائی کی عالمی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث ان اندازوں پر نظرِ ثانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی بھارت کو نئی پیچیدگیوں کا سامنا ہے، خاص طور پر پاکستان کے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کردار نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اس پیش رفت سے ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کے تعلقات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جو پہلے ہی تناؤ کا شکار ہیں۔
سیاسی سطح پر اس صورتحال کے اثرات آئندہ ریاستی انتخابات میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی توانائی بحران، خاص طور پر گیس کی فراہمی میں مسائل، کو حکومت کے خلاف ایک اہم نکتہ بنا رہی ہیں۔
انتخابات میں ایک اور اہم پہلو نقد امدادی اسکیموں کا بڑھتا ہوا رجحان ہے، جہاں مختلف ریاستوں میں سیاسی جماعتیں عوام، خصوصا خواتین ووٹرز، کو متوجہ کرنے کے لیے مالی امداد کے وعدے کر رہی ہیں۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سے ریاستی مالی نظم و ضبط متاثر ہو سکتا ہے اور طویل المدتی ترقی پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال جیسے اہم صوبوں میں نتائج مستقبل کی قومی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گے، جہاں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو وزیر اعظم مودی کی جماعت کے لیے سب سے بڑا حریف قرار دیا جا رہا ہے۔