‘ہم ان مخصوص معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے’، پاکستان کے ترجمان برائے دفتر خارجہ کا ایران اور امریکا کو بھیجے گئے مبینہ فریم ورک سے متعلق سوال پر تبصرہ

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے امن عمل بدستور جاری ہے، تاہم پاکستان کی جانب سے کسی مجوزہ فریم ورک یا جنگ بندی منصوبے کی خبروں کی نہ تو تصدیق کی گئی اور نہ ہی تردید۔

ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے کہاکہ ’45 دن کی جنگ بندی کی پیشکش یا 15 نکاتی تبادلے سے متعلق کئی رپورٹس سامنے آئی ہیں، تاہم ہم ان مخصوص معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے۔’

یہ بیان اس خبر کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی روئٹرزکے مطابق، یہ مجوزہ فریم ورک دونوں ممالک کو پیش بھی کیا گیا، جبکہ دیگر ذرائع کے مطابق 45 دن کی ممکنہ جنگ بندی پر بھی بات چیت جاری ہے۔

دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ بندی سے متعلق اپنی شرائط پہلے ہی ثالثی ذرائع کے ذریعے پیش کر چکا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ‘ایران اپنے جائز مطالبات کو واضح طور پر بیان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا، اور اسے کسی کمزوری کے طور پر نہیں بلکہ اپنے مؤقف کے دفاع میں اعتماد کے اظہار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔’

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے نزدیک مذاکرات کو دھمکیوں اور جنگی جرائم کی باتوں کے ساتھ جوڑنا قابلِ قبول نہیں، اور ماضی میں پیش کیے گئے بعض امریکی مطالبات کو ‘ضرورت سے زیادہ’ قرار دے کر مسترد کیا جا چکا ہے۔

ادھر پاکستان اس پورے عمل میں ایک ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات اور ایران کے ساتھ روابط کو استعمال کرتے ہوئے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران نے ممکنہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے سے کبھی انکار نہیں کیا۔

یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں جاری ہیں جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ عالمی معیشت کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جلد جنگ بندی نہ ہوئی تو سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر ایران نےمنگل تک آبنائے ہرمز نی کھولا تو اس کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ایران نے ٹرمپ کے بیانات کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ممکنہ جنگی جرم کی دھمکی قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں