پارس اور پیرس

سمندر کامزاج بھی بدلتا رہتا ہے،دریا بھی اپنا راستہ تبدیل کرتے ہیں۔ فطرت کے مناظر کی تبدیلی بندآنکھوں سے بھی صاف دیکھی جاسکتی ہے۔اللہ ربّ العزت نے اپنی مشیت سے اپنے بندوں کی تقدیریں لکھی ہیں لیکن وہ قادروکارساز ا نہیں تبدیل کرتارہتاہے۔انسان جہاں دعاؤں سے اپنی زندگی میں آنیوالی کئی بلاؤں کارخ موڑدیتے ہیں وہاں سخاوت اورصدقات کی تاثیر سے ان کی تقدیر بھی بدل جاتی ہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجیدفرقان حمید کی چند مخصوص آیات پرنظرثانی فرماتے ہوئے انہیں منسوخ فرمادیا تھا۔کوئی مسلمان قبلے کی تبدیلی کوفراموش نہیں کرسکتا، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے مخصوص فیصلے تبدیل ہونے میں بندوں کیلئے کامیاب ”حکومت“ اورزبردست”حکمت“ کاراز پنہاں ہے۔ہم انسان بھی ناقص اور خطاء کار ہیں لیکن اپنی خطاؤں پرڈٹ جانا اورڈھٹائی سے ان کادفاع کرنا عزازیل یعنی ابلیس کاراستہ ہے۔جوانسان فی زمانہ خودکوتبدیل نہیں کرتے وہ اپنی ہٹ دھرمی کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔دنیا بھر میں جولوگ بیس تیس اورپچاس ساٹھ سال مختلف شرکیہ ادیان پرقائم رہے وہ بھی سچائی تک رسائی کی بنیاد پر اپنے باپ دادا کامذہب ترک یعنی تبدیل کرتے ہوئے دامن اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ ہم کئی بار جدید ٹیکنالوجی کے باوجو ڈرائیونگ کرتے ہوئے بے خیالی یابے دھیانی میں راستہ بھول جاتے ہیں اورپھر کسی مقامی فرد سے پوچھنے پر”یوٹرن“ کااستعمال کرتے ہیں،تاہم جوافراداپنی غلطی کااحساس ہونے کے باوجوداپناارادہ یاراستہ تبدیل نہیں کرتے وہ یقینا زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔

ملک میں دوسال سے جاری ناقص اورناکام تجربات کے بعد تبدیلی ناگزیر ہے۔”تخت“ بچانے کیلئے ریاست کو”تختہ“ مشق بناناحماقت کے سوا کچھ نہیں۔سیاسی عدم استحکام کے ساتھ معاشی استحکام کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔یادرکھیں ریاست کی سیاست میں بیجا مداخلت اورمقبول سیاسی قیادت کیخلاف راست اقدام سیاسی انتقام کے زمرے میں آتا ہے،”منتقم“مزاج قیادت اچھی”منتظم“ نہیں ہوسکتی۔جوآزادی اظہار اور”سوال“ سے ڈریں ان کا”زوال“ اٹل ہے۔سیاست میں ایک دوسرے سے نفرت سمجھ آتی ہے لیکن ماں جیسی ریاست کسی کے ساتھ نفرت نہیں کرسکتی۔مختلف موضوعات پراختلاف رائے کواختلافات کارنگ دینا اورعدم برداشت کامظاہرہ کرنا ہرگزدانائی نہیں۔ریاست انصاف کادامن چھوڑدے تواس کاوجود برقرارنہیں رہتا۔سیاست کی مضبوطی ریاست اورمعیشت کیلئے تازہ ہواکاجھونکا ہے۔سیاست میں دلچسپی اورسیاستدانوں کے بارے میں پسند ناپسند جائز لیکن سیاست میں مداخلت قطعی ناجائز ہے۔مہذب ومتمدن معاشروں میں اختلافات کے باوجودمفاہمت اورمذاکرات کادروازہ بندنہیں کیاجاتا۔اقتدارکی باگ ڈور نبض شناس،فرض شناس، دردمند، دانشمند، سنجیدہ، پرعزم اورتازہ دم قیادت کودینا ہوگی۔عمران خان مادروطن کی ایک سیاسی حقیقت ہے،ریاست اس کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات یقینی بنانے کیلئے زندانوں، ایوانوں اورمیدانوں میں متحرک پی ٹی آئی قیادت کااعتماد بحال کرے۔”ڈیل“کیلئے دونوں طرف سے ”ڈھیل“ ازبس ضروری ہے۔جومخصوص افراداپنی اپنی انا کیلئے ریاست اورسیاست کوفنا کررہے ہیں ان کاشمار دانا طبقہ میں نہیں ہوسکتا۔اتحادی حکومت کی سیاسی منافقت قومی مفاہمت کی راہ میں حائل ہے،وزیراعظم سمیت وفاقی وزراء میں سے کوئی بھی پی ٹی آئی کے ساتھ سنجیدہ اوربامقصد مذاکرات نہیں چاہتا کیونکہ اس طرح ا ن کی ”کانیں“ اور”دکانیں“ بندہوناطے ہے لہٰذاء سودوزیاں سے بے نیاز ہمارے بزرگ اورزیرک سیاستدان اسٹیبلشمنٹ اورعمران خان کے درمیان پل کاکرداراداکرتے ہوئے قومی مفاہمت کاراستہ ہموارکریں۔یہ اسٹیبلشمنٹ بھی ہماری ہے اورکپتان بھی ہمارا ہے،میں کسی دشمن ملک کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دوستی کی بات نہیں کررہا۔پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ بھی ایک حقیقت ہے اسے دیوار کے ساتھ نہیں لگایاجاسکتا۔سیاسی قیادت اوراسٹیبلشمنٹ ایک دوسرے کو”بائی پاس“ کرنے کی بجائے کھیلتے ہوئے ایک دوسرے کو”پاس“دیں،اس طرح بھرپور لیڈ کے ساتھ کامیابی یقینی ہے۔ان دونوں میں سے کوئی فریق ”تنہا“ملک وقوم کے ساتھ”وفا“کاحق ادا نہیں کرسکتا۔جس دن دونوں ”فریق“ مخلص”رفیق“ بن گئے اس دن پاکستان ٹیک آف کرجائے گا۔راقم کی تجویز ہے دونوں طرف سے انتہاپسندی،خودپسندی اورگرماگرمی نے بہت کچھ بھسم کردیا ہے،بہتر ہوگااب نرمی سے کام لیاجائے۔

مقتدر شخصیات کی طرف سے اپناسخت محاسبہ اوربروقت محاکمہ انہیں ناکامی اوربدنامی سے بچاتاہے۔حکمرانوں نے دیکھا حالیہ دوبرسوں میں فردواحد کیخلاف ان کاہر ”پروپیگنڈا“اور”ہتھکنڈا“بری طرح ناکام ہوگیاہے،ان کے ایک قیدی پر سیاسی اورذاتی حملے بھی مسلسل بیک فائرکرتے جارہے ہیں۔حکمرانوں نے بدترین بلیم گیم اورمیڈیا ٹرائل سے جس شخصیت کوعزت اورشہرت سے محروم کرنا چاہاقدرت اورقوم نے اس کی عزت سے بھرپورشہرت کومزیدچارچاند لگادیے ہیں۔اس قیدی کی بینائی متاثر ہونے کی نیوزنے دنیا بھر میں خاص وعام کی آنکھیں نم کر دیں۔سنیل گواسکرسمیت دنیائے کرکٹ کے روشن ستاروں اورعزت دارعالمی شخصیات نے قید میں پڑے عالمی ہیروکوفوری معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے آوازاٹھائی ہے۔ کپتان کی قید”تنہا ئی“ نے اب تک حکومت کو سیاسی طورپر”رسوائی“اور”پسپائی“ کے سوا کھ نہیں دیا۔عمران خان کی شخصیت بارے متعدد ملکوں کے سابقہ کپتانوں کے نیک جذبات واحساسات بیش قیمت ہیں، مجھے اپنی زندگی میں عمران خان کے سوا کسی دوسرے ہیرو کیلئے اس طرح کی لفاظی سننے کااتفاق نہیں ہوا۔قید کے باوجود عمران خان دونوں ہاتھوں سے محبت، عزت اورشہرت جبکہ حکمران طبقہ نفرت سمیٹ ر ہا ہے۔ یقینا حکمرانوں نے اپنے بارے میں سوشل میڈیا پر مشتعل اورمضطرب عوام کے جذبات سنے ہیں،وہ یادرکھیں آوازخلق کونقارہ خالق کہاجاتا ہے۔

قیدی کے نام اوراس کی تصویرپرپابندی کے باوجودعمران خان کانام اورکام زبان زدِخاص وعام ہے۔سوشل میڈیا پرعمران خان کے مختلف ادوار کی ویڈیوزبیحد شوق سے دیکھی جاتی ہیں۔حالیہ پرتشدد واقعات اورپی ٹی آئی سے وابستہ ارکان اسمبلی اورکارکنان کی قیدوبند کے باوجود قیدی کے حامیوں کابچاکچھا ڈربھی جاتا رہا،سوشل میڈیا پر ان کی سوچ اور پسندناپسند واضح ہے۔قیدی کے ناقد اورحاسدمخصوص صحافی بھی اپنے اپنے میڈیاہاؤسزاورسوشل میڈیا سے جو ”دولت“ سمیٹ رہے ہیں وہ عمران خان کے نام کی”بدولت“ ہے۔قیدی پرتنقید یااس کی توصیف کے بغیر کوئی پوڈکاسٹ یاٹاک شو ریکارڈ نہیں ہوتا۔حکمران اس قیدی کوناپسنداوراس سے بے انتہاحسد کرتے ہیں لیکن مجھے عمران خان کی قسمت،اس کے ساتھ دنیا بھر سے ہررنگ ونسل کے انسانوں کی والہانہ محبت اوربے پایاں عالمی شہرت پررشک آتا ہے۔حکومت اپنے دوام کیلئے انتقام کابازارگرم کرتے ہوئے کسی شخصیت کوناحق قیدکرسکتی ہے لیکن قیدی سے اس کی قسمت،شہرت اورعزت نہیں چھین سکتی۔میں نے پچھلے دنوں عمران خان کی شخصیت بارے ایک کالم بعنوان ”ہیروزکاہیرو“لکھا تھا،وہ واقعی ہیروز کاہیرو ہے۔آج بھی شوبز،سپورٹس، سیاست،وکالت،صحافت اورتجارت سمیت مختلف شعبہ جات کے ہیروزکاواحدمقبول ومحبوب ہیروعمران خان ہے۔ پاکستان میں عمران خان کے سواکوئی عالمی شناخت اورعزت سے بھرپور شہرت نہیں رکھتا،دنیا کی ہرقوم کے لوگ اسے قدربلکہ رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔وہ اپنے عہدشباب میں بھی ہیروتھا اورآج بھی ہیرو ہے اورآنیوالے زمانوں میں بھی ہیرورہے گا۔اس نے اپنی شفیق ومہربان ماں کے ساتھ وفا کاحق اداکردیا اوربستر مرگ پربیمارباہمت والدہ کی دعانے اس کی کایا پلٹ دی۔

انسان بصارت کے بغیربھی زند ہ رہ سکتاہے لیکن اگربوجوہ”بصارت“ چلی بھی جائے توکسی ماہرچشم کی پیشہ ورانہ مہارت سے لوٹ بھی آتی ہے تاہم جو آدم زاد”بصیرت“ سے محروم ہوجائے تو اس کے اورحیوان کے درمیان کوئی فرق نہیں رہتا۔پچھلے دنوں زندان میں کپتان عمران خان کی بصارت متاثرہوگئی تھی لیکن اس کی ہمت اوراستقامت آج بھی برقرار ہے۔وہ حکومت کوڈھیل دینے اورحکمرانوں کے ساتھ ڈیل کرنے کیلئے تیار نہیں،کپتان کاانکار اس کے حامیوں کیلئے سرمایہ افتخار ہے۔عمران خان کیخلاف حکمران اتحاد کااب تک ہربیانیہ زمین بوس ہوگیا۔اتحادی حکومت کی طرف جس عمران خان کویہودی ایجنٹ کہاجاتا تھا،حقیقت میں اسرائیل اسے اپنے مفادات کیلئے شدیدخطرہ سمجھتا ہے۔عمران خان کے طرز سیاست پرتنقیدکرنیوالے راناثناء اللہ خاں سے سیاستدان بھی قیدوبند کے دوران کپتان کی بینظیر استقامت کے مداح ہیں۔حکمرانوں نے باری باری کئی سیاسی بونوں کو قدآورکپتان کیخلاف استعمال کرنے کیلئے میدان میں اتارا تھالیکن وہ اپنے ارادوں کی تکمیل میں ناکام رہے۔عمران خان بادشاہ گر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک”پارس“بھی ہے لیکن وہ شہبازشریف کی طرح پاکستان کو”پیرس“ نہیں بلکہ ریاست مدینہ بنانے کاحامی ہے،اس نے جس جس کاہاتھ تھاما انہیں سونابنادیا اورجس کاہاتھ جھٹکا وہ زیراورزیروہوگیا۔حالیہ برسوں میں پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے کون سونااورکون خاک بنا،ان کرداروں کے نام زبان زدعام ہیں۔ کپتان عمران خان اوران کی باوفاوباصفا بہنوں کے ساتھ ساتھ ان کے مخلص رفقاء کارمخدوم شاہ محمودقریشی،سراپااستقامت میاں اسلم اقبال،دھڑے بازعمرسرفرازچیمہ،سراپا مزاحمت ڈاکٹریاسمین راشد، میاں محمودالرشید،اعجازچوہدری اورمتعدد پی ٹی آئی اسیران نے مادروطن کے ساتھ وفاکاامتحان نمایاں پوزیشن کے ساتھ”پاس“ کرلیا جبکہ منتقم مزاج حکومت ”فیل“ہوگئی ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں