(دوسرا حصہ: ایران، مزاحمت اور خطے کا بدلتا منظرنامہ)
اکتوبر 2023 کے بعد شروع ہونے والی غزہ جنگ نے صرف فلسطین ہی نہیں، بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا۔
اب یہ جنگ صرف اسرائیل اور حماس کے درمیان محدود نہیں رہی، بلکہ ایران، حزب اللہ، حوثی، اور دیگر “محورِ مزاحمت” (Axis of Resistance) سے وابستہ قوتیں بھی متحرک ہو چکی ہیں۔ اس تبدیلی نے خطے کو ایک ممکنہ علاقائی جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔
ایران برسوں سے فلسطینی مزاحمت کی سفارتی، مالی اور عسکری حمایت کرتا رہا ہے۔
اکتوبر 2023 کی جنگ کے بعد تہران نے اسرائیل کو “ریڈ لائن” عبور کرنے سے باز رہنے کی وارننگ دی۔ لیکن جب اسرائیل نے شام میں ایرانی قونصل خانے کو نشانہ بنایا اور ایرانی جنرل کو شہید کیا، تو ایران نے پہلی بار براہ راست اسرائیل پر حملہ کر کے ایک نیا باب کھول دیا۔
اپریل 2024 میں ایران نے اسرائیل پر 300 سے زائد ڈرون اور میزائل فائر کیے، جسے بعض مبصرین نے پہلا ایرانی-اسرائیلی براہِ راست عسکری تصادم قرار دیا۔
یہ حملہ اگرچہ اسرائیلی اور امریکی دفاعی نظام نے بڑی حد تک ناکام بنا دیا، لیکن اس سے واضح ہوا کہ اب مزاحمت صرف غیر ریاستی عناصر تک محدود نہیں بلکہ ایک ریاست بھی اسرائیل کے خلاف عسکری اقدام پر آمادہ ہے۔
لبنان میں موجود حزب اللہ بھی مسلسل اسرائیلی شمالی سرحد پر کارروائیاں کر رہی ہے۔الجزیرہ کے مطابق روزانہ درجنوں راکٹ اور ڈرون حملے ہو رہے ہیں۔ہزاروں اسرائیلی شمالی علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔یہ صورت حال اسرائیل کو دو محاذوں پر جنگ لڑنے پر مجبور کر رہی ہےجنوب میں غزہ، شمال میں لبنان۔
امریکہ نے کھل کر اسرائیل کی مدد کی، یہاں تک کہ میزائل ڈیفنس سسٹم تک فراہم کیا۔ ایران، شام، حزب اللہ، حماس اور حوثیوں پر مشتمل ایک غیر رسمی اتحاد (Axis of Resistance) فعال نظر آتا ہے۔
عرب ممالک کی اکثریت خاموش ہے،سوائے قطر اور یمن کے حوثی گروپ کے جو عملاً اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
حوثی باغیوں نے یمن سے بحیرہ احمر میں اسرائیلی اور مغربی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس سے عالمی تجارت متاثر ہوئی۔
اس پر امریکہ اور برطانیہ نے حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کیں، لیکن اس سے خطے میں مزاحمت کا بیانیہ مزید مضبوط ہوا۔
یہ سوال اب عالمی سطح پر زیرِ بحث ہے کہ آیا ہے کہ ،کیا مشرقِ وسطیٰ ایک مکمل علاقائی جنگ کی طرف جا رہا ہے؟یا یہ مزاحمتی اتحاد اسرائیل کو ایک نئی سیکیورٹی حقیقت قبول کرنے پر مجبور کر دے گا؟
جو بات یقینی ہے، وہ یہ کہ فلسطین اب تنہا نہیں رہا۔
ایران اور دیگر مزاحمتی قوتوں کی شمولیت نے جنگ کے توازن کو یکطرفہ برتری سے دوطرفہ مزاحمت کی طرف موڑ دیا ہے۔
ہمارا فرض ہے کہ مزاحمت کے محاذ پر بیداری پیدا کریں۔
پاکستان، ترکی، ملائیشیا اور دیگر مسلم ممالک کو چاہیے کہ فلسطینی جدوجہد کو صرف انسانی ہمدردی کے دائرے میں محدود نہ رکھیں،بلکہ سیاسی، سفارتی اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے اسرائیل کے مظالم کے خلاف فعال کردار ادا کریں۔ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ ایرانی-اسرائیلی کشمکش اور فلسطینی مزاحمت دراصل ایک ہی جدوجہد کے دو چہرے ہیں۔ گزشتہ رات کا حملہ صرف معاملات کو مزید گھمبیر بنانے کا باعث نہیں، بلکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مزاحمت اور ظلم کے خلاف جدوجہد اب صرف سرحدوں میں نہیں، بلکہ بین الاقوامی طاقتوں کے لئے مہم جوئی کا باب کھل چکا ہے۔ یہ واضح پیغام ہے کہ اگر آج ہم خاموش رہیں، تو کل یہ آگ تمام خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
ظلم کے خلاف حق، جارحیت کے مقابلے میں مزاحمت، اور استعمار کے خلاف آزادی۔
مزاحمت کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوتی
جیسا کہ فلسطینی شاعر تمیم برغوثی نے کہا
لا تبك يا عينُ و لا تَحزني
فالطريق طويل، و نحنُ السراجُ الذي لا ينطفئ
اے آنکھ! نہ رو، نہ غم کر،
رستہ طویل ہے، مگر ہم وہ چراغ ہیں جو بجھتے نہیں