بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے باعث حکومت پاکستان کا بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کا وعدہ اب تک پورا نہیں ہو سکا۔ آئی ایم ایف اس وقت پاکستان کے ساتھ 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے پہلے دو سالہ جائزے پر عملے کی سطح کے معاہدے (SLA) کے لیے بات چیت میں مصروف ہے، جس کے باعث بجلی کے نرخوں میں مجوزہ کمی تعطل کا شکار ہوگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، سرکاری سطح پر یہ خبریں زیر گردش تھیں کہ، یوم پاکستان کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف قوم سے خطاب میں بجلی کے نرخوں میں 8 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کریں گے۔ تاہم، ان کی تقریر میں ایسا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔ اس کے بجائے، وزیراعظم نے بجلی کے شعبے سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں ان کے معاون خصوصی توقیر شاہ، اویس لغاری، احد چیمہ، محمد علی اور دیگر حکام شریک تھے۔ اجلاس میں توانائی کے مسائل اور ٹیرف میں ممکنہ کمی کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
قبل ازیں، 15 مارچ کو وزیراعظم آفس (PMO) کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، حالانکہ آئل ریگولیٹری اتھارٹی اور پیٹرولیم ڈویژن نے پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے فی لیٹر کمی کی سفارش کی تھی۔ حکومت نے اس کمی کے مالی اثرات کو بجلی کے صارفین تک منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا، جس کے تحت بجلی کے نرخوں میں بھی کمی کا وعدہ کیا گیا تھا۔
بجلی کے نرخوں میں کمی کے حوالے سے حکومت کی مجوزہ حکمت عملی کو آئی ایم ایف کی جانب سے جانچا جا رہا ہے۔ مالیاتی فنڈ پاکستان کی گزشتہ چھ ماہ کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لے رہا ہے، جس میں بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے حکومت کے منصوبے کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کے غیرسیاسی مالیاتی ماڈل میں حکومت کے پیش کردہ اعداد و شمار مکمل طور پر فٹ نہیں بیٹھے۔
4 سے 14 مارچ تک ہونے والے مذاکرات میں حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک منصوبہ شیئر کیا تھا، جس میں انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے ساتھ معاہدوں پر دوبارہ گفت و شنید کے نتیجے میں ٹیرف میں تقریبا 2 روپے فی یونٹ کی کمی کی تجویز دی گئی تھی۔ بعد ازاں، پیٹرول اور ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں 10 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز سامنے آئی، تاکہ اضافی محصولات کو بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے استعمال کیا جا سکے، جس سے صارفین کو 2 سے 2.5 روپے فی یونٹ کا اضافی ریلیف مل سکتا تھا۔
ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کو اس اقدام پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ سبسڈی نہیں ،بلکہ محصولات کی تنظیم نو ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف عام طور پر صرف کسی ایک اقدام پر توجہ دینے کے بجائے پوری معاشی تصویر کا جائزہ لیتا ہے۔
بجلی کے نرخوں میں کمی کے معاملے پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) کی طرف سے بھی کچھ تکنیکی چیلنجز سامنے آئے ہیں۔ ڈسکوز (بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں) پہلے ہی سالانہ بیس ٹیرف پر نظرثانی کے لیے نیپرا سے درخواستیں کر چکی ہیں۔ سول-ملٹری ٹاسک فورس کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے بعد صرف 6 سے 7 آئی پی پیز نے نظرثانی شدہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے لیے نیپرا سے رجوع کیا ہے۔
اس کے علاوہ، سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلیوں کے حوالے سے بھی نیپرا کو اہم فیصلے کرنے ہیں، کیونکہ حکومت نے شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی موجودہ شرائط میں رد و بدل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
وزیراعظم کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے سولر نیٹ میٹرنگ میں مجوزہ تبدیلیوں پر سوشل میڈیا پر کی گئی تنقید کے ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم آفس نے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا کہ، حکومت قابل تجدید توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور اس حوالے سے غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔
وزارت توانائی پہلے ہی اس تجویز کی حمایت کر چکی ہے کہ ،نیٹ میٹرنگ کے بجائے بجلی کی خریداری کے لیے یوٹیلیٹی اسکیل سولر منصوبوں کے ذریعے نجی سرمایہ کاروں سے بجلی خریدی جائے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے پہلے ہی نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے بائی بیک ریٹ میں دو تہائی کمی اور دیگر اصلاحات کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم نے اجلاس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے اور پیداواری کمپنیوں کی نجکاری سے متعلق قانونی پیچیدگیوں کو فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ، حکومت بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے ایک پیکیج تیار کر رہی ہے، جس کا جلد عوامی سطح پر اعلان کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ، توانائی کے مختلف شعبوں میں ہم آہنگی پیدا کی جائے، تاکہ بجلی، پانی اور پیٹرولیم سے متعلق حکمت عملی کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔