تحریر: رانا عرفان علی
پاکستانی اوورسیز ورکرز ملک کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، جو ہر سال اربوں ڈالر زرِ مبادلہ بھیج کر پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرتے ہیں۔ تاہم، حالیہ دنوں میں پاکستانی ورکرز کو ازبکستان سے وطن واپسی پر ویزا پروٹیکٹر کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کے روزگار اور معاشی مستقبل کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
مسئلے کی وجوہات
چند پاکستانی اوورسیز ورکرز نے ازبکستان میں مقیم ہونے کے دوران شکایت کی کہ انہیں ان کی کمپنیوں کی طرف سے بروقت تنخواہیں نہیں دی جا رہیں اور ان کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں۔ ان اطلاعات پر پاکستان کے متعلقہ اداروں نے ایک سخت اقدام اٹھاتے ہوئے ازبکستان کے لیے پروٹیکٹر ویزا پر پابندی عائد کر دی۔
یہ مسئلہ اپنی جگہ پر اہم تھا، لیکن اس کا جو حل نکالا گیا وہ نہایت غیر منطقی اور غیر مؤثر ثابت ہوا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومتِ پاکستان ازبکستان کی حکومت سے سفارتی سطح پر بات کرتی، متعلقہ کمپنیوں کا آڈٹ کروایا جاتا اور ان ورکرز کو ان کا حق دلوانے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اپنائی جاتی۔ لیکن اس کے برعکس، حکومتِ پاکستان نے ازبکستان کے لیے تمام پاکستانی اوورسیز ورکرز پر پروٹیکٹر ویزا کی پابندی لگا دی، جس کی وجہ سے ہزاروں ایسے ورکرز کو بھی نقصان پہنچا جو مکمل طور پر مطمئن تھے، وقت پر تنخواہیں وصول کر رہے تھے اور اپنی نوکریوں پر کسی پریشانی کے بغیر کام کر رہے تھے۔
اوورسیز پاکستانی ورکرز کے لیے مشکلات
اس پابندی کی وجہ سے جو پاکستانی ورکرز ازبکستان میں قانونی طور پر کام کر رہے تھے، جب وہ چھٹیوں پر پاکستان گئے تو انہیں واپس جانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایئرپورٹ پر متعدد پاکستانیوں کو آف لوڈ کر دیا گیا کیونکہ ان کا پروٹیکٹر ویزا جاری نہیں ہو رہا تھا۔ یہ صورتحال ان کے لیے بے حد پریشان کن ثابت ہوئی کیونکہ وہ اپنی ملازمتوں سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو گئے۔
اس کے علاوہ، کچھ پاکستانیوں نے اس پابندی سے بچنے کے لیے متبادل حل نکالا اور وہ پاکستان سے کسی تیسرے ملک جیسے سعودی عرب، ترکی یا دبئی کا ویزا لے کر وہاں گئے، اور پھر وہاں سے ازبکستان کا سفر کیا۔ تاہم، یہ طریقہ وقت، پیسے اور اضافی پریشانیوں کا باعث بن رہا ہے۔
بین الاقوامی کمپنیوں پر اثرات
پاکستانی ورکرز کے ویزا کے اس بحران کی وجہ سے ازبکستان میں کام کرنے والی کمپنیوں نے پاکستانی ورکرز کو بھرتی کرنے سے گریز کرنا شروع کر دیا ہے۔
وہ کمپنیاں جو پہلے پاکستانی ورکرز کو ترجیح دیتی تھیں، اب انڈیا، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک سے ورکرز کو ہائر کر رہی ہیں، کیونکہ پاکستانی ورکرز کو ویزا اور پروٹیکٹر کے مسائل کا سامنا ہے۔
اس صورتحال کا طویل مدتی نقصان پاکستانی ورک فورس کو ہوگا، کیونکہ اگر کمپنیوں کو پاکستان کے ورکرز بھرتی کرنے میں مسلسل مشکلات کا سامنا رہا تو وہ دیگر ممالک کی طرف مستقل طور پر منتقل ہو جائیں گی۔
اس کا براہِ راست نقصان پاکستان کی معیشت اور زرِ مبادلہ کے ذخائر پر ہوگا، کیونکہ پاکستانی اوورسیز ورکرز ہر ماہ لاکھوں ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں، اور اگر یہ مواقع ختم ہو گئے تو ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
حکومتِ پاکستان کے لیے تجاویز
یہ مسئلہ کسی طور پر بھی ناقابلِ حل نہیں ہے۔ اگر حکومتِ پاکستان فوری توجہ دے تو اس معاملے کو سفارتی اور عملی بنیادوں پر حل کیا جا سکتا ہے۔ چند اہم تجاویز درج ذیل ہیں:
1. حکومتِ پاکستان سفارتی سطح پر ازبکستان سے بات کرے اور متعلقہ کمپنیوں کو پابند کرے کہ وہ پاکستانی ورکرز کو بروقت تنخواہیں ادا کریں۔
2. تاشقند میں پاکستانی سفارتخانہ اس معاملے کو حکومت کے سامنے پیش کرے اور ایک ایسا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے جس کے تحت متاثرہ ورکرز کی شکایات کا ازالہ ہو۔
3. پروٹیکٹر ویزا پر عائد پابندی کو فوری طور پر واپس لیا جائے تاکہ جن ورکرز کے ساتھ کسی قسم کا مسئلہ نہیں ہے، وہ اپنے روزگار پر واپس جا سکیں۔
4. وزیرِاعظم پاکستان کے آئندہ دورۂ ازبکستان میں یہ معاملہ سرِ فہرست رکھا جائے اور ازبک حکومت کے ساتھ ایسے معاہدے کیے جائیں جو پاکستانی ورکرز کے مفاد میں ہوں۔
5. پاکستانی ورکرز کے لیے ازبکستان میں کاروباری اور ورک پرمٹ کے حوالے سے مزید سہولتیں پیدا کی جائیں تاکہ قانونی پیچیدگیوں کو کم کیا جا سکے۔
6. حکومتِ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان "ویزہ آن ارائیول” یا بغیر ویزہ کے انٹری کی سہولت پر بات چیت کی جائے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنایا جا سکے۔
7. ایک مستقل فورم تشکیل دیا جائے جہاں پاکستانی اوورسیز ورکرز کے مسائل سنے جائیں اور ان کے فوری حل کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
نتیجہ
یہ مسئلہ ہزاروں پاکستانی اوورسیز ورکرز کے معاشی مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ یہ وہ پاکستانی ہیں جو اپنی محنت کی کمائی کا ایک بڑا حصہ پاکستان بھیج کر ملکی معیشت کو مستحکم کرتے ہیں۔ اگر حکومتِ پاکستان اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کر سکی تو اس کا نقصان نہ صرف پاکستانی ورکرز کو ہوگا بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچے گا۔
اس وقت جب کہ وزیرِاعظم پاکستان متوقع طور پر فروری میں ازبکستان کا دورہ کر رہے ہیں، سفارتی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرنے اور فوری حل نکالنے کا سنہری موقع موجود ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ پاکستان اور متعلقہ ادارے اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھیں، فوری ایکشن لیں اور پاکستانی اوورسیز ورکرز کے لیے آسانیاں پیدا کریں، نہ کہ مزید مشکلات۔