ازبکستان اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو ایک نئی اور مضبوط سمت دینے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ فروری 2026 میں ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے، جسے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے فروغ کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں متوقع ہے جب ازبکستان اور پاکستان کے درمیان سیاسی روابط میں نمایاں تیزی آئی ہے اور دونوں ممالک معاشی تعاون کو عملی بنیادوں پر وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ اعلیٰ سطح ملاقاتوں کا مرکزی نکتہ باہمی تجارت کے حجم کو آئندہ برسوں میں 2 ارب ڈالر تک بڑھانا ہوگا، جبکہ قلیل مدت میں اسے 1 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف بھی طے کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، 2024 کے اختتام پر ازبکستان اور پاکستان کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 404 ملین ڈالر رہا، جبکہ 2025 کے ابتدائی 11 ماہ میں یہ بڑھ کر 434.4 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ تجارتی سطح دونوں کی اصل معاشی صلاحیت کی مکمل عکاس نہیں، اس لیے تجارت کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔
اس مقصد کے لیے ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) کو وسعت دینے پر کام جاری ہے، جس کے تحت رعایتی ٹیرف میں شامل اشیا کی تعداد 17 سے بڑھا کر 100 کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کرنے، زرعی اور صنعتی مصنوعات کے معیار کو ہم آہنگ کرنے اور کسٹمز کے طریقۂ کار کو آسان بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
تجارت کو مزید آسان بنانے کے لیے دونوں ممالک کے کسٹمز اداروں کے درمیان ڈیجیٹل ڈیٹا کے تبادلے کا نظام متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس سے سامان کی کلیئرنس تیز اور کاروباری اخراجات کم ہوں گے۔ مالیاتی شعبے میں پیش رفت کے طور پر نیشنل بینک آف پاکستان کی ازبکستان میں شاخ کھولنے کا منصوبہ بھی زیرِ عمل ہے، جو 2026 میں فعال ہونے کی توقع ہے۔ اس اقدام سے براہِ راست بینکنگ چینلز قائم ہوں گے اور کاروباری طبقے کو سہولت ملے گی۔
صنعتی تعاون کے شعبے میں ٹیکسٹائل اور دواسازی کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ازبکستان میں پہلے ہی پاکستانی سرمایہ کاری سے متعدد مشترکہ منصوبے کام کر رہے ہیں، جبکہ دواسازی کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔ اس کے علاوہ چمڑے، جوتوں، کان کنی، زرعی مشینری اور برقی آلات کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
زرعی شعبے میں بھی دونوں ممالک ایک دوسرے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ ازبکستان پاکستان کو پھل اور سبزیاں برآمد کرتا ہے، جبکہ پاکستان سے آم، کینو، چاول، آلو اور گوشت کی ازبک منڈی تک رسائی پر بات چیت جاری ہے۔ زرعی تحقیق، بیجوں کی تیاری اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے تبادلے کے لیے ادارہ جاتی تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی تعاون کے اہم منصوبوں میں ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ بھی شامل ہے، جس کے تحت ازبکستان کو پاکستانی بندرگاہوں تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی، جبکہ پاکستان وسطی ایشیا اور دولتِ مشترکہ کی منڈیوں تک بہتر طور پر پہنچ سکے گا