ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں بین الاقوامی ادارہ برائے وسطی ایشیا اور ازبکستان میں پاکستانی سفارتخانے کے اشتراک دونوں ممالک کے درمیان مواقع کی تلاش کے عنوان سے اعلیٰ سطح گول میز کانفرنس منعقد ہوئی۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے سفیروں، اعلیٰ سرکاری حکام، ماہرینِ پالیسی، تھنک ٹینکس، تحقیقی اداروں اور کاروباری حلقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز بین الاقوامی ادارہ برائے وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر اور صدرِ ازبکستان کے خارجہ امور کے نائب مشیر جاولون واخوبوف اور ازبکستان میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق کے استقبالی کلمات سے ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل سیاسی مکالمے، معاشی تعاون کے فروغ اور عوامی روابط مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
سفیر احمد فاروق نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور ازبکستان صدیوں پر محیط تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور علمی رشتوں میں بندھے قدرتی شراکت دار ہیں۔ انہوں نے امام بخاری، امام ترمذی اور البیرونی جیسے عظیم علما کے مشترکہ ورثے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رابطہ سازی دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ازبکستان کو سمندر تک مختصر اور کم خرچ راستہ فراہم کرتا ہے جبکہ ازبکستان پاکستان کے لیے وسطی ایشیا کا دروازہ ہے۔ انہوں نے ازبکستان افغانستان پاکستان ریلوے منصوبے کو علاقائی رابطوں اور معاشی مواقع کے فروغ کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ 2025 کے اختتام تک دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت 450 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ تجارتی حجم کو دو ارب ڈالر تک بڑھانے کے مشترکہ ہدف کا اعادہ کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے ترجیحی تجارتی معاہدے میں توسیع، تجارتی سہولت کاری اور ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس روابط بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔
تاشقند میں قائم پاکستانی سفارتخانے کے اعلامیے کے مطابق کانفرنس کے دوران تین موضوعاتی نشستیں منعقد ہوئیں۔ پہلی نشست میں پاکستان ازبکستان تعلقات کے ارتقا اور اسٹریٹجک شراکت داری کے نئے مرحلے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوسری نشست میں تجارت، ٹرانسپورٹ، تعلیم، سائنس، ثقافت اور سیاحت میں تعاون کے امکانات زیر بحث آئے۔ تیسری نشست میں وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے اور ٹرانزٹ و انفراسٹرکچر منصوبوں پر غور کیا گیا۔
شرکاء نے نوجوانوں پر مبنی اور مستقبل دوست پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تجارتی رکاوٹیں دور کرنے، تعاون کے نئے شعبے تلاش کرنے اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی سفارشات مرتب کیں۔ کانفرنس کو پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اعتماد، تعاون اور علاقائی استحکام کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔