پاکستان کاافغان حکومت کےساتھ دہشتگردی کا مسئلہ سفارتی سطح پراٹھانے کا فیصلہ

حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ، افغانستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خدشات کو مؤثر انداز میں افغان حکومت کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھایا جائے گا۔ اس حوالے سے وزارت خارجہ کے ذریعے باضابطہ اقدامات کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی سربراہی میں کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے اعلیٰ سطح کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ، طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی پاسپورٹ، نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر، چیف کمشنر اسلام آباد، نیشنل ایکشن پلان کے کوآرڈینیٹر، اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے نمائندے شریک تھے۔
اس کے علاوہ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے داخلہ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے وزرائے داخلہ بھی شامل ہوئے، جبکہ متعلقہ سیکرٹریز داخلہ اور آئی جی پولیس حکام نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ، محسن نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت، سیکیورٹی ادارے، اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ، کسی بھی اقدام سے پہلے تمام صوبوں کی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا، تاکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ اور مربوط حکمت عملی اپنائی جا سکے۔
اجلاس میں ملک کے مختلف صوبوں میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر غور کیا گیا۔ وزیر داخلہ نے زور دیا کہ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر وہاں کے سی ٹی ڈی یونٹس کو مزید فعال کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
محسن نقوی نے اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا کہ، وفاقی سطح پر ایف آئی اے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کو مکمل طور پر متحرک کیا جائے گا، تاکہ ملک میں دہشت گرد عناصر کی سرکوبی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
اجلاس میں نیشنل اور پراونشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سنٹرز کے قیام پر بھی گفتگو کی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ، نیشنل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سنٹر کے قیام کی باضابطہ منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ تمام صوبوں میں اسی طرز کے پراونشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سنٹرز کی تیاری بھی جاری ہے۔
وزیر داخلہ نے اجلاس کے دوران اعلان کیا کہ ،فرنٹیئر کانسٹیبلری کی ازسرنو تنظیم بندی کے بعد اسے نیشنل ریزرو پولیس میں تبدیل کیا جا رہا ہے، تاکہ اس فورس کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ، ملک میں دھماکہ خیز مواد کی بہتر مانیٹرنگ کو یقینی بنانے کے لیے اسے وفاقی دائرہ اختیار میں شامل کیا جائے گا، تاکہ اس کے غیر قانونی استعمال کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔
ایک اور اہم پیش رفت کے طور پر اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ،افغان حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے مسئلے کو سفارتی سطح پر اٹھایا جائے گا۔ اس کے لیے وزارت خارجہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ ،وہ افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی اور ان کی کارروائیوں کے حوالے سے مؤثر طور پر بات کرے ،تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو بہتر بنایا جا سکے۔
محسن نقوی نے اجلاس میں تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ، وہ پاکستان میں مقیم غیر ملکی شہریوں کی فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سخت ایس او پیز پر عمل درآمد کریں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے چوکس رہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں