پاکستان، عرب دنیا اور خطے کی نئی صف بندی

قطر اجلاس کے بعد پاکستان کے بارے میں یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ وہ خطے میں ایک اہم اور کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے ابھر رہا ہے، عرب ممالک کی سیاسی و سفارتی سرگرمیوں میں پاکستان کی موجودگی اور اس کا بڑھتا ہوا کردار ایک نئے سفارتی منظرنامے کی نشاندہی کرتا ہے، اس منظرنامے میں جہاں مشرقِ وسطیٰ کے طاقتور ممالک اپنی پالیسیوں کو ازسرنو ترتیب دے رہے ہیں وہیں پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو محض روایتی دوستی یا جذباتیت سے نکال کر باقاعدہ ادارہ جاتی اور معاہداتی بنیادوں پر استوار کرے،پاکستان اگر واقعی عرب دنیا کا مضبوط محافظ اور اسٹریٹجک شراکت دار بنتا ہے تو یہ نہ صرف خطے کے لیے ایک نئے توازن کا سبب بن سکتا ہے بلکہ پاکستان کو بھی ایک موثر اور بااثر مسلم ملک کے طور پر ابھار سکتا ہے.

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کے لیے پاکستان کو اپنی داخلی معیشت، دفاعی پالیسی اور سفارتی حکمت عملی میں ہم آہنگی پیدا کرنی ہوگی، کیونکہ اگر یہ تعلقات صرف وقتی اور محدود مقاصد کے لیے رکھے گئے ہوں، جیسے امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں سے وقتی طور پر بچنا یا اپنے شاہی نظام کو محفوظ رکھنا تو پھر پاکستان ایک بار پھر صرف استعمال ہونے والا ملک بن کر رہ جائے گا جیسا کہ ماضی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہو چکا ہے،پاکستان کی موجودہ معاشی حالت ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے بھاری قرضوں کے بوجھ کے تحت ایسی نہیں کہ وہ عالمی سطح پر بڑی مالی پابندیوں یا امریکا و یورپ کی کھلی مخالفت کو آسانی سے برداشت کر سکے.

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے نہ صرف جانی قربانیاں دیں بلکہ مالی اور معاشی طور پر بھی بھاری نقصان اٹھایا، نتیجتاً ملک کی داخلی سلامتی اور معیشت دونوں کمزور ہوئیں، یہی تجربہ آج بھی سب کے سامنے ہے اور یہ ایک سخت سبق ہے جسے نظرانداز کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے،پاکستان کے لیے اب وقت ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں محتاط مگر فعال حکمت عملی اپنائے، عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو باہمی مفادات، تحریری معاہدوں، سرمایہ کاری کے واضح منصوبوں اور دفاعی تعاون کے ایسے فارمولوں پر استوار کیا جائے جو دونوں فریقوں کے لیے یکساں فائدہ مند ہوں تاکہ کوئی بھی ملک پاکستان کو صرف ایک وقتی آلہ نہ سمجھے.

پاکستان اگر عرب دنیا کے ساتھ صرف جذباتی اور روایتی بنیادوں پر نہیں بلکہ حقیقی معاشی و اسٹریٹجک تعاون کی بنیاد پر تعلقات قائم کرے، اپنی تجارتی پالیسیوں کو شفاف اور عالمی معیار کے مطابق بنائے، سفارتی اداروں کو زیادہ خودمختار اور فعال کرے اور بین الاقوامی سطح پر قانونی اور تجارتی تحفظات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنی موجودگی کو مستحکم کرے تو وہ نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر ایک مضبوط، خود مختار اور فیصلہ کن مسلم طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے،یہی وہ موقع ہے جب پاکستان اپنے سابقہ تجربات سے سبق سیکھ کر، عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ سے نکلنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو شفاف اور محفوظ ماحول فراہم کرے، علاقائی تجارت میں تنوع لائے اور اپنی دفاعی اور سفارتی صلاحیتوں کو بہتر بنا کر ایک ایسا ملک بن جائے جو نہ صرف عرب دنیا کا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک قابلِ اعتبار شراکت دار کہلائے،

Author

اپنا تبصرہ لکھیں