صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ خوراک و زراعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، صحت اور بینکاری سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
منگل کے روز ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیوف سے ملاقات کے دوران صدر آصف علی زرداری نے ازبک صدر شوکت مرزائیف کے حالیہ تاریخی اور نتیجہ خیز دورۂ پاکستان کے فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تاشقند کے ساتھ اپنے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے ازبکستان کی جانب سے پاکستان سے حلال گوشت، پھل اور آلو درآمد کرنے میں دلچسپی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دوطرفہ تجارت کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔
صدر پاکستان نے اسلام آباد میں حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد ازبک صدر کی جانب سے اظہارِ یکجہتی اور حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ عزم کو دہرایا۔
ملاقات کے دوران ازبک سفیر نے صدر شوکت مرزائیف کا ایک خط صدر آصف علی زرداری کو پیش کیا، جس میں ازبک صدر نے دورۂ پاکستان کے دوران شاندار مہمان نوازی پر حکومت اور عوامِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ خط میں انہیں نشانِ پاکستان سے نوازے جانے اور اعزازی پروفیسر شپ و ڈاکٹریٹ دینے پر بھی اظہارِ تشکر کیا گیا۔
ازبک سفیر نے صدر پاکستان کو آگاہ کیا کہ ازبکستان اسلام آباد کے ایف-7 سیکٹر میں واقع بابر پارک کو ترقی دینے کا خواہاں ہے، جس کے لیے متعلقہ ازبک وزیر آئندہ ہفتے اسلام آباد کا دورہ کریں گے اور پاکستانی حکام سے بات چیت کریں گے۔