وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جمعے کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں صحت کارڈانشورنس پروگرام دوبارہ شروع کر دیاہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صحت کی سہولتوں تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور یہ سہولتیں عوام کی دہلیز تک پہنچنی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ کے اجرا سے حکومت نے عوامی خدمت کی جانب ایک اور تیز قدم اٹھایا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ یہ اسی منصوبے کی بحالی ہے جسے ان کے قائد نواز شریف نے پہلی بار 2016 میں متعارف کرایا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ زندگی میں صحت سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں، کیونکہ تعلیم حاصل کرنے، روزگار کمانے، کھیلوں میں حصہ لینے اور زندگی کے دیگر شعبوں میں آگے بڑھنے کے لیے صحت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے لیے صحت کارڈ دوبارہ جاری کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امیر طبقہ تو مہنگا علاج برداشت کر سکتا ہے، مگر عام آدمی، یتیم بچوں اور مزدوروں کے لیے علاج کا خرچ اٹھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ ہو تو اس کے اثرات پورے خاندان پر پڑتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بہتر صحت اور علاج کی سہولت ہر پاکستانی کا حق ہے۔ انہوں نے صحت کے وزیر، سیکریٹری اور ان کی ٹیم کو ہدایت کی کہ کسی تیسرے فریق کے ذریعے علاج کے معیار کی نگرانی کی جائے اور اس پروگرام کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ وہ سندھ کے وزیراعلیٰ سے بات کریں گے تاکہ اس پروگرام کو وہاں بھی شروع کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں یہ پروگرام پہلے سے جاری ہے اور کامیابی سے چل رہا ہے، جبکہ سندھ میں بھی اس حوالے سے پیش رفت کی کوشش کی جائے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ پروگرام 2016 میں شروع ہوا تھا مگر وفاقی علاقوں میں گزشتہ تین برس سے معطل تھا، جسے اب دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے تقریبا ایک کروڑ افراد کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
وزیر صحت نے کہا کہ صحت کارڈ کے ذریعے شہری بغیر نقد رقم کے علاج کروا سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ان تینوں علاقوں میں مزید 70 اسپتالوں کو اس پروگرام میں شامل کیا جائے گا، جبکہ ان علاقوں کے شناختی کارڈ رکھنے والے افراد کراچی کے 16 اسپتالوں میں بھی علاج کرا سکیں گے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں فی الحال صحت کارڈ استعمال نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کے 10 اضلاع کے لیے منصوبہ تیار کیا جا چکا ہے اور وزیراعظم سے درخواست کی گئی ہے کہ دو سال کے لیے 24 ارب روپے بجٹ میں شامل کیے جائیں، جبکہ تیسرے سال یہ پروگرام خود کفیل بنا دیا جائے گا