پاکستانی سفارتی مشن کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ، پاکستان بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی مسلسل دھمکی آمیز اور جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور بھارت بات چیت سے گریز کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں نیوز کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ، پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے اور اس مقصد کے لیے مسلسل عملی اقدامات کر رہا ہے، جبکہ بھارتی وزیر اعظم عالمی برادری کے سامنے بھی جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں بلاول نے کہا کہ، اگر بھارت ہماری فوجی قیادت سے بات کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کا بندوبست کر سکتے ہیں، اور اگر سیاستدانوں سے بات کرنی ہو تو وہ خود ذمہ داری لینے کو تیار ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ، بھارت پہلگام حملے کی تحقیقات کے مطالبے سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے، اور یہی دراصل بات چیت سے راہ فرار کا ایک اور بہانہ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ، پاکستان کو اپنے غیر جوہری ہتھیاروں پر مکمل اعتماد ہے اور انہی صلاحیتوں کے باعث ہم اس تنازعے کے دوران اپنا توازن قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔
بلاول بھٹو نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ، پاکستانی ایئر فورس نے چھ بھارتی طیارے مار گرائے، جن کا بھارت نے ایک ماہ بعد اعتراف کیا، جبکہ پاکستان کا کوئی طیارہ تباہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ، بھارت کو اس میدان میں برابری کے مقام تک پہنچنے میں وقت درکار ہے۔ انہوں نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ، وہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور پانی روکنے کی کوشش ایک واضح جارحیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اب عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ، وہ بھارت کو جارحیت سے باز رکھنے کے لیے اقدامات کرے، کیونکہ سندھ طاس معاہدے کو کوئی ایک فریق یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔
بلاول نے یہ بھی الزام لگایا کہ، پاکستان میں ہونے والی کئی دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے انڈین نیوی آفیسر کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ، بھارت کی مداخلت کے شواہد ہمارے پاس موجود ہیں۔ بلاول بھٹو نے یہ واضح کیا کہ، پاکستان دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشانہ بنا ہے اور اس کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔