یہ کھیل ہے، میدانِ جنگ نہیں!

پاکستانی اور بھارتی عوام کے کرکٹ کے ساتھ جنون کی جڑیں محض کھیل کے شوق تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی، سماجی اور تاریخی مظہر ہے۔ کھیل عام طور پر ذہنی سکون، تفریح اور جسمانی صحت کے لیے کھیلا جاتا ہے، مگر کرکٹ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں اس سے بڑھ کر ایک اجتماعی شعور اور قومی شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔ اس کی اصل وجہ محض گیند اور بلے کی کشش نہیں بلکہ کرکٹ کے اردگرد بننے والی کہانی، تاریخ، نفسیات اور سیاسی حالات ہیں جنہوں نے اس کھیل کو ایک جذباتی اور قومی مسابقت میں ڈھال دیا ہے۔ کرکٹ میں جیت اور ہار پاکستانی عوام کے لیے بھی صرف ایک کھیل کا نتیجہ نہیں بلکہ اجتماعی انا اور قومی وقار کا سوال ہے، بالکل اسی طرح بھارتی عوام بھی اسے قومی فخر اور عزت کے پیمانے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

برصغیر میں کرکٹ انگریزوں کے دور میں آئی اور رفتہ رفتہ یہ کھیل مقامی ثقافت کا حصہ بن گیا۔ آزادی کے بعد پاکستان اور بھارت دونوں میں کرکٹ نے قومی شناخت کی حیثیت اختیار کرلی۔ ہاکی دونوں ملکوں کا قومی کھیل قرار دیا گیا، لیکن عوامی دلچسپی اور جوش و جذبے میں ہاکی کرکٹ کے سامنے دب گئی۔ ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ کرکٹ کھیلنے کے لیے بڑے وسائل درکار نہیں تھے۔ گلی محلے کے بچے ٹینس بال سے کرکٹ کھیلنے لگے، اور یہ کھیل تیزی سے عام ہوا۔ دوسری جانب ہاکی یا فٹبال کھیلنے کے لیے میدان اور سہولتیں درکار تھیں، جو عام عوام کو دستیاب نہ ہو سکیں۔

پاکستان اور بھارت دونوں میں کرکٹ نے ایک ایسی نفسیاتی جگہ گھیر لی جہاں عوام اپنی امیدیں، خواب، جذبات اور قومی انا کو سمونے لگے۔ جب پاکستان نے 1954 میں انگلینڈ کو اس کی سرزمین پر شکست دی تو پاکستانی عوام نے اسے غلامی کے دور پر ایک نفسیاتی فتح سمجھا۔ بھارت کے لیے بھی 1983 کا ورلڈ کپ اسی نوعیت کا لمحہ تھا جب کپل دیو کی قیادت میں ان کی ٹیم نے دنیا کو حیران کردیا۔ پاکستانی عوام کے لیے 1992 کا ورلڈ کپ، اور بھارتی عوام کے لیے 2011 کا ورلڈ کپ محض کھیل کی جیت نہ تھے بلکہ قومی تاریخ کے روشن ابواب بن گئے۔ ان لمحات نے یہ تاثر پختہ کیا کہ کرکٹ محض کھیل نہیں بلکہ قومی وقار کا استعارہ ہے۔

پاکستانی اور بھارتی عوام کی نفسیات میں کرکٹ کا جنون اس لیے بھی بڑھا کہ یہ کھیل غیر یقینی کیفیت سے بھرپور ہے۔ ایک لمحے میں میچ کا رنگ بدل سکتا ہے، ایک چھکا یا ایک وکٹ پورے کھیل کی سمت بدل دیتا ہے۔ یہ غیر یقینی کیفیت دونوں ممالک کے عوامی ذہن کی عکاس ہے، جو اپنی روزمرہ کی زندگی میں غیر یقینی اور بے یقینی کے عادی ہیں۔ یہ کھیل ان کی نفسیات سے ہم آہنگ ہے، اس لیے وہ اس سے جذباتی طور پر جڑ گئے۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ تو اس جنون کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ یہ محض کھیل نہیں رہتا بلکہ ایک نفسیاتی جنگ بن جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے عوام اسے اپنی قومی عزت و وقار کا امتحان سمجھتے ہیں۔ ایک چوکا یا چھکا جشن کا سامان کرتا ہے تو دوسری طرف شکست عوام کو دنوں اور ہفتوں تک مایوسی میں ڈال دیتی ہے۔ پاکستانی عوام بھارت کے خلاف جیت کو اپنی قومی فتح سمجھتے ہیں، اور بھارتی عوام بھی پاکستان کے خلاف کامیابی کو اپنی قومی انا کی تسکین قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک میں کرکٹ کے مقابلے اکثر میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتے ہیں، جہاں کھلاڑیوں کی جارحانہ باڈی لینگوئج، تماشائیوں کے نعرے، اور میڈیا کی اشتعال انگیزی مل کر کھیل کو جذباتی جنگ میں بدل دیتے ہیں۔

میڈیا نے اس دیوانگی کو کئی گنا بڑھایا۔ پاکستان اور بھارت دونوں میں کرکٹ میچ ٹی وی اسکرینوں پر ایک تہوار کی طرح دکھایا جاتا ہے۔ اسپانسرشپ، اشتہارات اور کھلاڑیوں کی مشہوری نے کرکٹ کو محض کھیل سے نکال کر ایک صنعت بنا دیا۔ میچ سے قبل کے تجزیے، کھلاڑیوں کے انٹرویوز، اور سوشل میڈیا پر چلنے والے مباحث عوام کو مزید جوش دلاتے ہیں۔ خاص طور پر پاک-بھارت میچ میں میڈیا ایسی فضا پیدا کرتا ہے جیسے یہ کھیل نہیں بلکہ جنگ ہونے جا رہی ہو۔ دونوں ممالک کے عوام میڈیا کے بیانیے میں بہہ کر مزید جذباتی ہوجاتے ہیں۔

سیاست بھی کرکٹ کے اس جنون میں شامل رہی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی تعلقات جب بھی کشیدہ ہوتے ہیں، کرکٹ بھی اس کشیدگی کی نذر ہو جاتی ہے۔ کئی بار کرکٹ میچز منسوخ ہوئے یا دورے ملتوی کیے گئے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کرکٹ کو دونوں ممالک میں ’’سفارتکاری‘‘ کے ایک ذریعے کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔ ’’کرکٹ ڈپلومیسی‘‘ نے کئی بار تعلقات کو نرم کرنے کی کوشش کی۔ مگر عوامی سطح پر کرکٹ ہمیشہ قومی وقار اور برتری کی علامت ہی رہی۔

معاشی پہلو بھی کرکٹ کے اس کھیل کو دیوانگی میں بدلنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کرکٹ بورڈز، اسپانسرز اور میڈیا کمپنیاں جانتی ہیں کہ عوامی دلچسپی کو کس طرح مالی فائدے میں بدلا جائے۔ اسپورٹس اکنامی کے ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے میچوں سے ہونے والی آمدنی اربوں ڈالر تک جا پہنچتی ہے۔ اس تجارتی پہلو نے بھی اس کھیل کی شدت کو بڑھا دیا ہے۔ عوام کے لیے یہ کھیل جذبات کا مسئلہ ہے تو کاروباری اداروں کے لیے یہ سونے کی کان ہے۔

اگر ہم گہرائی سے دیکھیں تو کرکٹ دونوں ممالک کے عوام کے لیے ایک اجتماعی فرار (collective escape) کا ذریعہ ہے۔ پاکستانی عوام اپنی سیاسی بے چینی، معاشی مسائل اور سماجی دباؤ کو بھلا کر کرکٹ میں سکون ڈھونڈتے ہیں۔ بھارتی عوام بھی اپنی غربت، بے روزگاری اور معاشرتی ناہمواریوں کو بھولنے کے لیے کرکٹ کو سہارا بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شکست اور فتح کی کیفیت ان کے روزمرہ جذبات پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔

کرکٹ کی اس مقبولیت میں نوآبادیاتی ورثہ بھی جھلکتا ہے۔ انگریزوں نے اس کھیل کو اشرافیہ کی علامت بنایا، اور آج بھی ہم اسے اپنے قومی وقار سے جوڑتے ہیں۔ پاکستانی عوام اور بھارتی عوام، دونوں اپنی ثقافت کے کئی پہلوؤں میں انگریزوں کی دی ہوئی روایتوں کو اپنائے ہوئے ہیں۔ کرکٹ اسی کا ایک حصہ ہے، فرق یہ ہے کہ اب یہ غلامی کی یاد دہانی نہیں بلکہ آزادی اور خودی کی علامت بن چکا ہے۔

یوں دیکھا جائے تو پاکستانی اور بھارتی عوام کرکٹ کے دیوانے اس لیے ہیں کہ یہ کھیل ان کی تاریخ، نفسیات، ثقافت اور قومی وقار کا نمائندہ بن چکا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان میچ نے اس کھیل کو مزید سنسنی خیز، جذباتی اور جارحانہ رنگ دے دیا ہے، جس نے کرکٹ کو کھیل سے بڑھ کر ایک اجتماعی جنون بنا دیا ہے۔ کرکٹ دونوں عوام کے لیے ایک ایسا آئینہ ہے جس میں وہ اپنی کامیابیوں، ناکامیوں، انا، کشمکش اور خوابوں کو دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کھیل ان کے لیے محض کھیل نہیں بلکہ زندگی کا ایک جذبہ اور قومی شعور کا حصہ ہے۔

لیکن یہیں آ کر سوال جنم لیتا ہے کہ کیا واقعی کرکٹ کو میدانِ جنگ بنایا جانا چاہیے؟ کیا کھیل وہی نہیں جو دلوں کو جوڑنے، مسکراہٹیں بکھیرنے اور انسانوں کو قریب لانے کا ذریعہ ہو؟ جب کرکٹ دشمنی اور جارحیت کا استعارہ بن جاتا ہے تو کھیل کا اصل مقصد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ کرکٹ کو کھیل کے دائرے میں رہنے دینا ضروری ہے تاکہ عوامی جذبات مثبت سمت اختیار کریں۔ اگر اسے نفرت اور جنگ کا استعارہ بنا دیا گیا تو یہ کھیل اپنی اصل روح کھو بیٹھے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی اور بھارتی عوام کرکٹ کو ایک صحت مند مقابلے کے طور پر دیکھیں، نہ کہ دشمنی اور نفرت کے مظہر کے طور پر۔ یہی رویہ اس کھیل کو کھیل بنائے رکھے گا اور میدانِ جنگ نہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں