سعودی ہم منصب نے بتایا کہ 20 نکاتی منصوبے میں زیادہ چیزیں مان لی گئیں ہیں لیکن کچھ پر صدر ٹرمپ سے بات کرنا پڑے گی، وزیر خارجہ پاکستان

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا غزہ جنگ بندی کا 20 نکاتی ڈرافٹ وہ نہیں تھا جس کی پاکستان نے توثیق کی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم کی پریس کانفرنس کے بعد سعودی وزیر خارجہ کا پیغام موصول ہوا۔ اس پیغام میں کہا گیا تھا کہ ڈرافٹ میں کئی نکات قبول کر لیے گئے ہیں، تاہم کچھ معاملات پر مزید بات چیت ضروری ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق اُس وقت دو ہی راستے تھے، یا تو اس ڈرافٹ پر اعتراض کیا جاتا جس سے اسرائیل کو مزید خونریزی کا موقع ملتا، یا پھر مسلم اور عرب ممالک ایک مشترکہ مؤقف اپنا کر ٹرمپ انتظامیہ کو آگاہ کرتے۔

وزیر خارجہ نے ایوان میں وہ مشترکہ بیان بھی پڑھ کر سنایا جس میں دو ریاستی حل، مغربی کنارے سے اسرائیل کی مکمل دستبرداری اور غزہ کو مغربی کنارے کا حصہ تسلیم کرنے جیسے نکات شامل تھے۔ بیان میں فوری جنگ بندی، تعمیر نو اور اسرائیلی افواج کے غزہ سے مکمل انخلا کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اکیلے اس جنگ کو روکنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ اسلامی ممالک کی تنظیم، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل بھی اس سلسلے میں ناکام ہو چکے تھے، لہٰذا اگر ہم نے کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کی تو اسے سراہا جانا چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو ‘الہام’ نہیں ہونا تھا کہ صدر ٹرمپ کے نکات مختلف ہیں۔ جیسے ہی ڈرافٹ سامنے آیا، حکومت نے فوری طور پر اس پر اپنا مؤقف واضح کر دیا۔

وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حزبِ اختلاف کی جماعتیں حکومت پر تنقید کر رہی تھیں اور دعویٰ کر رہی تھیں کہ پاکستان نے غزہ تنازع پر اپنی پالیسی بدل لی ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں