پاکستان کےدفتر خارجہ کے ترجمان، شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں واضح کیا کہ، افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے دی گئی ڈیڈلائن میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ، افغانستان کے ساتھ مذاکرات کا عمل مسلسل جاری ہے، اور حالیہ اعلیٰ سطح دورے کے دوران بھی دونوں ممالک کے درمیان اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترجمان نے بتایا کہ، وزیر مملکت برائے خارجہ امور، صادق خان کے دورہ افغانستان میں جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے کا معاملہ اٹھایا گیا، جبکہ طورخم بارڈر پر تعمیرات سمیت دیگر اہم معاملات پر بھی بات چیت کی گئی۔
شفقت علی خان نے امریکا کی جانب سے پاکستانی کمرشل کمپنیوں پر لگائی گئی پابندیوں کو یکطرفہ اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ، یہ پابندیاں بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے عائد کی گئی ہیں، جو کہ ناقابل قبول ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ، پاکستان میں دہشت گردی میں بھارتی حکومت کے ملوث ہونے کے ثبوت اقوام متحدہ میں جمع کروائے جا چکے ہیں، اور عالمی برادری کو اس پر سنجیدگی سے کارروائی کرنی چاہیے۔
انہوں نے روس اور یوکرین کے درمیان حالیہ سیز فائر کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ، یہ جنگ بندی مستقل بنیادوں پر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ، پاکستان کے دونوں ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ہمیشہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔
شفقت علی خان نے امریکا میں حالیہ پیش کیے گئے بل کے حوالے سے کہا کہ، حکومت کو اس بل کا علم ہے، لیکن یہ کسی فرد کی ذاتی کوشش ہے اور امریکا و پاکستان کے تعلقات کی حقیقی عکاسی نہیں کرتا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ، امریکی کانگریس دونوں ممالک کے اچھے تعلقات کے لیے مثبت اقدامات کرے گی۔