پاکستان نے مالی سال 2025 میں 14 سال بعد پہلی بار کرنٹ اکاؤنٹ میں سرپلس ریکارڈ کیا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 2.1 ارب ڈالر یا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 0.5 فیصد کے سرپلس میں رہا، جب کہ گزشتہ مالی سال میں اسی پیمانے پر 2.1 ارب ڈالر یا 0.6 فیصد کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
اس کارکردگی کی اہم وجہ ترسیلات زر میں ریکارڈ 27 فیصد اضافہ اور خدمات کے شعبے کے خسارے میں 16 فیصد کمی رہی۔ صرف جون کے مہینے میں 328 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جب کہ مئی میں 84 ملین ڈالر کا خسارہ تھا اور جون 2024 میں یہ خسارہ 500 ملین ڈالر تک پہنچا تھا۔
ٹاپ لائن سکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال گزشتہ پانچ برسوں کے اوسط 6 ارب ڈالر یا 1.8 فیصد جی ڈی پی خسارے کے مقابلے میں نمایاں بہتری کی عکاس ہے۔ تاہم، مصنوعات کا خسارہ سالانہ بنیاد پر 21 فیصد بڑھ کر 27 ارب ڈالر ہو گیا ہے، جبکہ خدمات کا خسارہ کم ہو کر 2.6 ارب ڈالر تک محدود رہا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مالی سال 2025 کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر 38.3 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں، جو ایک ریکارڈ ہے۔
اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں باضابطہ ذرائع سے ترسیلات بھیجنے پر مالیاتی اداروں کی جانب سے دی جانے والی مراعات، بیرون ملک افرادی قوت کی برآمدات میں اضافہ، اور اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک ایکسچینج ریٹ کے درمیان فرق میں کمی شامل ہیں، جس سے غیر رسمی ذرائع کے بجائے قانونی راستوں سے رقوم بھیجنے کا رجحان بڑھا۔
ماہرین کے مطابق، کرنٹ اکاؤنٹ کا یہ سرپلس پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کو مستحکم کرنے، روپے پر دباؤ کم کرنے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کے موقف کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔