پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک خصوصی حفاظتی یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق، محسن نقوی نے یہ اعلان چین کے وزیر برائے پبلک سیکیورٹی وانگ ژیاؤ ہونگ سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران کیا۔ دونوں رہنماؤں کی یہ ملاقات چین کی وزارتِ پبلک سیکیورٹی کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی جہاں محسن نقوی کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور فوری ردعمل کے نظام کی تیاری پر اتفاق کیا۔ اس نظام کے تحت پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تربیتی پروگراموں کی توسیع بھی شامل ہوگی۔ چینی وزیر وانگ ژیاؤ ہونگ نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں اور داخلی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرتا ہے۔
دونوں وزرا نے پولیس اور حفاظتی اہلکاروں کی تربیت اور ان کی پیشہ ورانہ مہارت میں بہتری کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر اتفاق کیا اور سیکیورٹی سے متعلق معلومات کے تبادلے کو یقینی بنانے کا بھی عہد کیا۔ محسن نقوی نے چینی وزیر کو پاکستان میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا، جس پر وانگ ژیاؤ ہونگ نے اطمینان کا اظہار کیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں موجود چینی شہریوں اور باہمی دلچسپی کے منصوبوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی شہریوں کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں اور اسی سلسلے میں اسلام آباد میں ایک خصوصی حفاظتی یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران سائبر کرائم کی روک تھام میں تعاون پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے چینی اداروں کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی اے آئی ٹیکنالوجی دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
وزیر داخلہ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کا رشتہ پائیدار اور مضبوط ہے اور دونوں ممالک سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں۔ ملاقات میں یہ بھی طے پایا کہ مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس ہر تین ماہ بعد ہوگا جبکہ سال میں ایک مرتبہ وزارتی سطح پر ملاقات منعقد کی جائے گی