کابل، پکتیا اور قندہار میں پاکستان کی مزید فضائی کارروائیاں، اسلحے کے ذخائر کو ہدف بنائے جانے کے دعوے

اطلاعات کے مطابق پاکستان نے کابل اور قندھار سمیت افغانستان کے مختلف مقامات پر فضائی کارروائیاں کی ہیں۔ ان حملوں میں افغان طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز سمیت اسلحے کے ذخائر کو ہدف بنائے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی ایکس پوسٹ میں لکھا کہ “پاکستانی افواج نے کابل، قندھار، پکتیا، پکتیکا اور کچھ دیگر علاقوں میں بمباری کی ہے۔”

ان کے مطابق “بعض مقامات پر شہری گھروں کو منہدم کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچے شہید ہوئے، جبکہ بعض جگہوں پر خالی صحراؤں اور ویران مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔”

اپنی ایک اور پوسٹ میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ “طیاروں نے قندھار ایئرپورٹ کے قریب کام ایئر نامی نجی فضائی کمپنی کے ایندھن کے ذخیرے کو بھی نشانہ بنایا۔ یہ کمپنی سول ہوائی کمپنیوں اور اقوامِ متحدہ کے طیاروں کو ایندھن فراہم کرتی ہے۔”

ادھر افغان وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پر ایک ڈرون ویڈیو جاری کرتے ہوئے لکھا کہ “ان حملوں کے جواب میں خیبر پختونخوا کے علاقے کوہاٹ میں ایک فوجی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔” سوشل میڈیا پر جاری کئی ویڈیوز میں کوہاٹ میں شہری مقامات پر ڈرون گرتے ہوئے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان 28 فروری کی رات سے سرحد پر کشیدگی جاری ہے، جب افغان طالبان نے مختلف مقامات پر سرحدی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ یہ کارروائیاں 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب پاکستان کی جانب سے ہونے والی فضائی کارروائیوں کے ردِعمل میں شروع ہوئی تھیں، جو تاحال جاری ہیں۔

پاکستان نے اب تک 65 مقامات پر فضائی کارروائیوں میں 641 افغان طالبان اہلکاروں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم ان تمام دعوؤں کی اب تک کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان نے اپنی رپورٹ میں 26 فروری کی شام سے لے کر 5 مارچ 2026 تک افغانستان میں مجموعی طور پر 56 شہریوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم پاکستان کا موقف ہے کہ یہ مشن کابل میں طالبان کے زیرِ اثر کام کرتا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں