پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) نے حکومت کو برآمدات کو بڑھانے کے لیے مسابقتی ممالک کے ساتھ مراعات کی جامع بینچ مارکنگ کرنے کی سفارش کی ہے، جبکہ چین سمیت دیگر تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر نظرثانی کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
حکومت نے اگلے تین سال میں برآمدات کا ہدف 60 ارب ڈالر زمقرر کیا ہے، تاہم پی بی سی کے مطابق اس ہدف کے حصول میں توانائی کی زیادہ لاگت، ٹیکسوں کا دباؤ اور کیش فلو پر ودہولڈنگ ٹیکس کے اثرات جیسے مسائل رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
پی بی سی کے چیف ایگزیکٹو ،احسان ملک نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک خط میں آگاہ کیا کہ، حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی یقین دہانی سے کاروباری طبقے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے، تاہم یہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں اب بھی زیادہ رہے گی۔ انہوں نے کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافے کو بھی برآمدی صنعت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ، افریقی ممالک میں پاکستان کی تجارتی موجودگی بھارت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، اور تجارتی معاہدوں کے تجربات کو سامنے رکھ کر مزید بہتر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
پی بی سی نے حکومت کو مشورہ دیا کہ، وہ برآمدات پر مبنی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے فروغ پر توجہ دے، کیونکہ موجودہ سرمایہ کاری پالیسیاں زیادہ تر مقامی مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتی ہیں اور برآمدات کے لیے موزوں ماحول فراہم نہیں کرتیں۔
احسان ملک نے ٹیکس نظام پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، حکومت کو ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب بڑھانے کے لیے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو کاروباری ترقی کو فروغ دیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ،زیادہ ٹیکسوں کے بجائے معیشت کو دستاویزی بنانے، کارپوریٹائزیشن اور کمپنیوں کی لسٹنگ کی حوصلہ افزائی کی جائے ،تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ، اگر موجودہ بجٹ کی طرح پہلے سے عائد ٹیکسوں میں مزید اضافہ کر کے ریونیو بڑھانے کی کوشش کی گئی تو یہ کاروباری ترقی کی حوصلہ شکنی کرے گا اور برآمدات کے فروغ کے حکومتی اہداف متاثر ہو سکتے ہیں۔