پاکستان یکم جنوری سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بنے گا

پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے اپنی دو سالہ مدت کا آغاز یکم جنوری 2025 کو کرے گا۔ پاکستان کو یہ نشست بھاری اکثریت سے حاصل ہوئی، جہاں 193 رکنی جنرل اسمبلی کے 182 ارکان نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ تعداد مطلوبہ دو تہائی اکثریت سے کہیں زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، منیر اکرم، نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل میں اپنی موجودگی کے دوران عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں ایک فعال اور تعمیری کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ایک ایسے وقت میں سلامتی کونسل کا حصہ بن رہے ہیں جب دنیا شدید جغرافیائی سیاسی بحران، دو بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی مسابقت، مختلف خطوں میں جاری جنگوں اور ہتھیاروں کی دوڑ جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔”

سلامتی کونسل میں پاکستان کی ترجیحات

منیر اکرم نے زور دیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق جنگوں کو روکنے، تنازعات کے پرامن حل کو فروغ دینے اور ہتھیاروں کی دوڑ کے اثرات کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے مسائل، سرحد پار دہشت گردی، کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو دبانے کی کوششوں اور خطے میں ہتھیاروں کے عدم توازن جیسے معاملات پر اپنی توجہ مرکوز رکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی اسٹریٹجک ڈیٹرنس کو درپیش پابندیوں سے نمٹنے اور بین الاقوامی فورمز پر اپنی مؤثر موجودگی کو یقینی بنائے گا۔ “پاکستان کے پاس اقوام متحدہ میں ایک تربیت یافتہ اور پیشہ ور ٹیم موجود ہے، جو ان تمام چیلنجز سے کامیابی سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے،” انہوں نے کہا۔

تاریخی تناظر اور کردار

پاکستان آٹھویں بار سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا ہے۔ اس سے قبل پاکستان 1952-53، 1968-69، 1976-77، 1983-84، 1993-94، 2003-04، اور 2012-13 کے ادوار میں اس حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے چکا ہے۔ منیر اکرم نے یاد دلایا کہ “پاکستان نے گزشتہ دہائیوں میں بین الاقوامی امن مشنز میں ایک نمایاں شراکت دار کے طور پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔”

ایشیا کی نمائندگی

پاکستان جاپان کی جگہ لے گا، جو اس وقت سلامتی کونسل میں ایشیائی نشست پر فائز ہے۔ منیر اکرم نے کہا کہ سلامتی کونسل میں پاکستان کی موجودگی کو محسوس کیا جائے گا اور ملک اپنی مدت کے دوران بین الاقوامی امن و سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرے گا۔

پاکستان کے لیے یہ نشست نہ صرف ایک اعزاز ہے بلکہ ایک اہم موقع بھی ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنے مؤقف

کو اجاگر کرے اور دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں مثبت کردار ادا کرے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں