پاکستان کے سرحدی علاقے چمن میں سرحد پار سے ہونے والے حملوں کو پاک فوج نے ناکام بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے اسپن بولدک کے قریب علی الصبح مختلف مقامات پر حملے کی کوشش کی، جس کا پاک فوج نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔
فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق مسلح گروہوں نے مقامی دیہات اور شہری آبادی کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا، تاہم پاک فوج کی جوابی کارروائی میں پندرہ سے بیس حملہ آور ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران سرحدی علاقوں میں جھڑپوں کے نتیجے میں دو سو سے زیادہ حملہ آور اور ان کے ساتھی مارے جا چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق حملہ آوروں نے پاک افغان دوستی گیٹ کو بھی دھماکے سے اڑایا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عوامی آمد و رفت اور تجارت کے مخالف ہیں۔
کرم سیکٹر میں بھی پاک فوج نے حملے کی ایک اور کوشش ناکام بنائی۔ اس کارروائی میں آٹھ پوسٹیں اور چھ ٹینک تباہ کیے گئے جبکہ بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود قبضے میں لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اسپن بولدک میں جوابی کارروائی کے بعد مخالف گروہوں نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ تاہم سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
نوشکی سیکٹر میں بھی پاک فوج نے دشمن کی ایک چوکی پر کارروائی کی اور تین کلومیٹر اندر جا کر پاکستانی پرچم لہرا دیا۔
ذرائع کے مطابق بارہ اور گیارہ اکتوبر کی درمیانی رات سے جاری فوجی کارروائیوں کے دوران سرحد پار کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں، جبکہ کئی عارضی چوکیوں پر پاک فوج نے قبضہ کیا ہے۔
قندھار کے قریب بھی پاک فوج نے اہم ٹھکانوں کو ہدف بنایا، جن میں دشمن کے کئی کمانڈر اور جنگجو ہلاک ہوئے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاک فوج کسی بھی بیرونی جارحیت کا مؤثر اور مکمل جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔