ازبکستان اور پاکستان کے درمیان 29 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ، دفاعی تعاون کے لیے ایکشن پلان پر اتفاق

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران پاکستان اور ازبکستان کے درمیان 29 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ صدر مرزائیوف جمعرات کو اسلام آباد پہنچے، جہاں ان کی آمد کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے دستاویزات کا تبادلہ عمل میں آیا۔

ان معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب کے دوران وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور ازبک صدر شوکت مرزائیوف کی موجودگی میں مجموعی طور پر 20 دستاویزات کا باقاعدہ تبادلہ کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں میں دفاعی تعاون کے لیے ایکشن پلان، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور آفات کے خطرات میں کمی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، زراعت کے شعبے میں تعاون، پھلوں کی برآمد کے لیے صحت و صفائی کے تقاضوں سے متعلق پروٹوکول، معدنیات اور جیو سائنسز کے شعبے میں تعاون، سزا یافتہ افراد کی منتقلی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔

اسی تقریب کے دوران ازبک صدر شوکت مرزائیوف کو پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مضبوط دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور خطے میں امن و ترقی کے لیے ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹریٹ آف فلاسفی کی اعزازی ڈگری اور اعزازی پروفیسر کا خطاب بھی دیا گیا۔

صدر شوکت مرزائیوف کی اسلام آباد آمد پر نور خان ایئر بیس پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ان کا استقبال کیا۔

پاکستان کے ایوان صدر کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری پیغام میں کہا گیا کہ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر بھی ازبک صدر کے استقبال کے موقع پر نور خان ایئر بیس پر موجود تھے۔ صدر مرزائیوف کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی، جبکہ پاکستان کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے مہمان صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا اور تینوں مسلح افواج کے بینڈ نے قومی ترانوں کے دھن بھی پیش کیے۔

ازبک صدر یہ سرکاری دورہ وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر کر رہے ہیں۔ صدر شوکت مرزائیوف ایک اعلیٰ سطح وفد کی قیادت کر رہے ہیں، جس میں کابینہ کے ارکان اور کاروباری شخصیات شامل ہیں۔ دورے کے دوران وہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے، وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے اور پاکستان۔ازبکستان بزنس فورم سے خطاب بھی کریں گے۔

یہ صدر مرزائیوف کا پاکستان کا دوسرا دورہ ہے، اس سے قبل وہ 2022 میں پاکستان آئے تھے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق، یہ دورہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں مسلسل بہتری اور دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط روابط کی عکاسی کرتا ہے، جو مشترکہ تاریخ، مذہبی وابستگی اور وسطی و جنوبی ایشیا میں امن و خوشحالی کی مشترکہ خواہشات پر مبنی ہیں۔

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارتی اور معاشی تعاون کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ 2023 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جبکہ صنعتی تعاون کے لیے ایک جامع روڈ میپ سمیت مزید منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں