پاکستان اور قطر نے خطے کی تازہ صورتحال، خصوصا ایران اور افغانستان کے حالات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے دوحہ میں قطر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر مملکت برائے دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمان بن حسن بن علی التھانی سے ملاقات کی۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، ملاقات میں علاقائی پیش رفت، بالخصوص ایران اور افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ “دونوں فریقوں نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے بات چیت، کشیدگی میں کمی اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔” ملاقات میں پاکستان اور قطر کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کا بھی جائزہ لیا گیا اور دونوں ممالک کے مضبوط اور تاریخی تعلقات کی توثیق کی گئی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دفاعی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دوسری جانب قطری نائب وزیر اعظم نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
اس سے قبل وزیر اعظم نے قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت اور پاک-قطر جوائنٹ بزنس ٹاسک فورس کے چیئرمین ڈاکٹر احمد بن محمدالسید سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان زرعی مصنوعات، خوراک اور ویلیو ایڈڈ اشیا کے شعبوں میں اپنی برآمدات کو متنوع بنانا چاہتا ہے۔ اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاک-قطر جوائنٹ منسٹریل کمیشن کے چھٹے اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر پاکستان میں سرمایہ کار دوست اصلاحات کو اجاگر کیا اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کونسل غیر ملکی سرمایہ کاری کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ قطری وزیر نے بھی اقتصادی تعاون کو وسعت دینے اور نجی شعبے کے روابط مضبوط بنانے میں دلچسپی ظاہر کی۔ دونوں ممالک نے فیصلہ کیا کہ رمضان المبارک کے دوران پاک-قطر جوائنٹ بزنس ٹاسک فورس کا اجلاس بلایا جائے گا تاکہ قطر کی جانب سے پاکستان میں ممکنہ سرمایہ کاری کی تجاویز پر غور کیا جا سکے۔
دوسری جانب قطر بزنس مین ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے، جس کی قیادت چیئرمین شیخ فیصل بن قاسم التھانی کر رہے تھے، وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے ایسوسی ایشن کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ “پاکستان نجی شعبے کی قیادت میں ہونے والے تعاون کو دوطرفہ شراکت داری کا اہم ستون سمجھتا ہے۔” انہوں نے قطری کاروباری برادری کو پاکستان میں انفراسٹرکچر، لاجسٹکس، توانائی، زراعت، ٹیکنالوجی اور برآمدی صنعتوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔
قطر بزنس مین ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع میں دلچسپی ظاہر کی اور کاروباری روابط کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کاروباری برادریوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو عملی شکل دی جا سکے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف کی قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے بھی ملاقات متوقع ہے، جس میں سیاسی روابط، اقتصادی تعاون، توانائی شراکت داری اور عوامی سطح پر روابط سمیت دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر گفتگو کی جائے گی۔ بیان کے مطابق دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر اور افرادی قوت کی برآمد کے شعبوں میں نئے مواقع تلاش کریں گے۔