امن کا دشمن کون؟

افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے نازک اور پیچیدہ رہے ہیں۔ دونوں ممالک مذہبی، تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے جڑے ہوئے ضرور ہیں، لیکن سیاسی اعتماد کی کمی نے ہمیشہ اس رشتے میں دراڑ ڈالے رکھی ہے۔ آج جب خطے میں امن و استحکام کی بات کی جاتی ہے تو سب سے بڑا سوال یہی اٹھتا ہے کہ افغانستان، بھارت اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان موجود تعلقات کا پاکستان کے امن و سلامتی پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟

افغانستان میں اس وقت بظاہر طالبان کی حکومت قائم ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پورے ملک پر ایک ہی نظم و نسق کی گرفت نہیں۔ مختلف صوبوں اور علاقوں میں مختلف گروہ اپنے اپنے نظریاتی اور مسلکی اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ یہ گروہ بظاہر ایک نظریہ رکھتے ہیں لیکن ان کے مفادات اور ترجیحات مختلف ہیں۔ انہی گروہوں میں ایک گروہ تحریکِ طالبان پاکستان ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔

ٹی ٹی پی کی کاروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہ تنظیم پاکستان میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور دہشت گردی کی طویل تاریخ رکھتی ہے۔ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے متعدد بار دنیا کے سامنے شواہد رکھ چکے ہیں کہ بھارت نے اس تنظیم کو نہ صرف مالی مدد فراہم کی بلکہ جدید اسلحہ اور تربیت بھی دی۔ ان شواہد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ افغان حکومت اس معاملے پر یا تو خاموش ہے یا پھر دوہرا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

جب پاکستان یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے ٹھکانے ختم کیے جائیں اور ان کے رہنماؤں کو پاکستان کے حوالے کیا جائے، تو افغان حکومت اکثر یہ مؤقف اپناتی ہے کہ پاکستان کو اپنے داخلی مسائل خود حل کرنے چاہئیں۔ اس موقف کے پیچھے دراصل وہ نظریاتی وابستگی ہے جو افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے مابین موجود ہے۔ دونوں گروہ ایک ہی فکری مکتب سے تعلق رکھتے ہیں، اور شاید یہی وجہ ہے کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف سخت مؤقف اپنانے سے گریزاں ہے۔

دوسری جانب بھارت نے گزشتہ چند برسوں میں افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بحال کرنے کی نئی کوششیں شروع کی ہیں۔ بھارتی نمائندوں کے کابل سے بڑھتے ہوئے رابطے، سفارتی تعلقات کی بحالی اور تجارتی روابط میں دلچسپی اس امر کی علامت ہے کہ نئی دہلی اب بھی افغانستان کو اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ بھارت ہمیشہ سے ایک واضح پالیسی پر عمل کرتا رہا ہے “پاکستان کو اندر سے کمزور کرو، اور اس کے سرحدی تنازعات کو ہوا دو۔” اسی پالیسی کے تحت ماضی میں بلوچستان، فاٹا اور کے پی کے میں علیحدگی پسند اور دہشت گرد گروہوں کو استعمال کیا گیا۔

ٹی ٹی پی کے کئی کمانڈر اس وقت افغان علاقوں میں آزادانہ نقل و حرکت رکھتے ہیں۔ ان کے کیمپ، تربیت گاہیں اور رابطہ مراکز افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ پاکستان جب اس پر احتجاج کرتا ہے تو افغان حکومت یا تو خاموش رہتی ہے یا پھر الٹا پاکستان پر الزام لگاتی ہے کہ وہ افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔ یہ رویہ دراصل اس بات کی علامت ہے کہ افغان طالبان اپنی نظریاتی وابستگی کو ریاستی ذمہ داری پر ترجیح دے رہے ہیں۔

تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان کے مغربی صوبوں میں ایسے عناصر ہمیشہ سے موجود رہے ہیں جو پاکستان کے خلاف نفرت کے جذبات رکھتے ہیں۔ کبھی یہ کمیونسٹ حکومتوں کے ساتھ تھے، کبھی شمالی اتحاد کے، اور آج وہ طالبان کے سائے میں اپنی پرانی سوچ کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ انہی گروہوں سے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) جیسے عناصر کو فکری و مالی حمایت بھی ملتی ہے۔ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ پاکستان میں قومی یکجہتی کو کمزور کیا جائے اور اداروں کے خلاف شکوک و شبہات کو ہوا دی جائے۔

کندھار جو کبھی پاک افغان دوستی کی علامت سمجھا جاتا تھا آج مختلف انتہاپسند گروہوں کے اثر میں ہے۔ وہاں کے لوگ اگرچہ امن چاہتے ہیں، لیکن چند شرپسند عناصر کے ہاتھوں وہ دباؤ میں ہیں۔ عام افغان شہری جنگ نہیں بلکہ سکون اور روزگار چاہتے ہیں، مگر خطے کی بڑی قوتوں کی مداخلت نے ان کے خوابوں کو مسلسل چکناچور کیا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ صورتحال انتہائی نازک ہے۔ سرحد پار سے دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، پاکستانی چوکیوں پر حملے، اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ اب محض بیانات سے کام نہیں چلے گا۔ اسی لیے اسلام آباد نے اپنی پالیسی واضح کر دی ہے: “بات چیت بھی ہوگی، مگر دہشت گردی کسی قیمت پر برداشت نہیں کی جائے گی۔” پاکستان نے ہمیشہ یہ مؤقف رکھا ہے کہ ایک مستحکم افغانستان ہی ایک محفوظ پاکستان کی ضمانت ہے۔ لیکن جب افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہو تو پھر خاموشی ممکن نہیں رہتی۔

دوسری طرف بھارت کی خطے میں مداخلت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ چاہے وہ بلوچستان میں تخریبی کارروائیاں ہوں، یا افغانستان کے ذریعے پراکسی وار ، نئی دہلی کی حکمت عملی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ پاکستان کو اندرونی سطح پر کمزور کیا جائے۔ بین الاقوامی سطح پر بھارت خود کو “جمہوری اور ترقی پسند ملک” کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر اس کے خفیہ اداروں کی سرگرمیاں کچھ اور کہانی سناتی ہیں۔ یہی وہ دوہرا معیار ہے جو خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانستان، پاکستان اور بھارت تینوں اپنی پالیسیوں میں شفافیت اور نیک نیتی پیدا کریں۔ اگر بھارت واقعی افغانستان میں استحکام چاہتا ہے، تو اسے دہشت گرد گروہوں سے مکمل فاصلہ اختیار کرنا ہوگا۔ افغانستان کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ پاکستان اس کا دشمن نہیں بلکہ برادر ملک ہے، جس نے گزشتہ چالیس برسوں میں لاکھوں افغان مہاجرین کو اپنے دامن میں پناہ دی۔

دہشت گرد کسی ایک ملک کا دشمن نہیں بلکہ پورے خطے کا دشمن ہے۔ جب تک یہ سوچ عام نہیں ہوگی کہ دہشت گردی ایک مشترکہ خطرہ ہے، تب تک امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ اس کھیل میں الزام تراشی سے زیادہ ضروری ہے کہ سب فریق اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں۔ پاکستان کی نیت واضح ہے وہ افغانستان میں امن چاہتا ہے، کیونکہ ایک پرامن افغانستان ہی ایک محفوظ پاکستان کی ضمانت ہے۔ لیکن اگر دہشت گرد گروہوں کو پناہ دی جاتی رہی تو پھر خطہ ایک بار پھر بدامنی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

فیصلہ اب کابل، دہلی اور اسلام آباد کے ہاتھ میں ہے۔ اگر تینوں ملک ماضی کے خول سے نکل کر مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں، تو جنوبی ایشیا نہ صرف دہشت گردی سے آزاد ہو سکتا ہے بلکہ معاشی ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔
اللہ کرے کہ عقل و تدبر غالب آئے، اور خطے کے عوام جنگ نہیں، امن کا سورج طلوع ہوتا دیکھیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں