پاکستان کو ‘ہارڈ اسٹیٹ’ بنانے کے لیے اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے، اور اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی پورے ملک میں اسمگلنگ، تجاوزات، غیر قانونی افغان مہاجرین اور سعودی عرب جانے والے پاکستانی فقیروں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے متحرک رہے گی۔
کمیٹی میں وفاقی اور تمام صوبائی حکام کو شامل کیا گیا ہے، جو ملک بھر میں ان اہم مسائل سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائے گی۔
اس 15 رکنی کمیٹی کی قیادت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کریں گے، جبکہ اس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے ہوم سیکریٹریز، چیف سیکریٹریز، حساس اداروں کے نمائندے اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) حکام بھی شامل ہوں گے۔
یہ کمیٹی جن امور کی نگرانی کرے گی ان میں،غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی واپسی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات،غیر قانونی تجارت، خاص طور پر پیٹرول، اشیائے خورد و نوش اور دیگر اشیا کی اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیاں ،ملک بھر میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائیاں، پاکستان سے سعودی عرب جانے والے فقیروں کے مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے اقدامات شامل ہیں اورکمیٹی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجیٹائزیشن کے عمل کا جائزہ اور خامیوں کی نشاندہی کرکے بہتری کے لیے سفارشات شامل ہیں۔