لاہور میں واہگہ-اٹاری سرحد پر پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ عمل میں آیا، جس کے تحت دونوں ممالک نے ایک، ایک اہلکار کو ایک دوسرے کے حوالے کیا۔
بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکار، پورنم کمار شاہ کو بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا، جبکہ پنجاب رینجرز کے جوان، محمد اللہ کو پاکستانی حکام کے سپرد کیا گیا۔
پورنم کمار شاہ کو 23 اپریل کو قصور کے قریب سرحدی خلاف ورزی پر پاکستان رینجرز نے حراست میں لیا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، پورنم پنجاب کے ضلع فیروزپور میں بی ایس ایف کی 24ویں بٹالین میں تعینات تھے اور اس دن ان کی ڈیوٹی بھارت-پاکستان سرحد پر تھی۔ دورانِ ڈیوٹی وہ مبینہ طور پر مقامی کسانوں کو ایک خطرناک علاقے سے نکالتے ہوئے بین الاقوامی سرحد عبور کر گئے تھے، جس کے بعد انہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا۔ ان کی گرفتاری کی تصدیق ایک ایسی تصویر سے ہوئی جس میں انہیں آنکھوں پر پٹی باندھے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
ادھر بھارتی سیکیورٹی فورسز نے بھی پاکستانی رینجرز کے جوان محمد اللہ کو حراست میں لیا تھا۔ دونوں اہلکاروں کی حوالگی پُرامن طریقے سے اور طے شدہ ضوابط کے تحت واہگہ-اٹاری سرحد پر کی گئی۔
انڈین ایکسپریس نے بی ایس ایف کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ، واپسی کا عمل باہمی افہام و تفہیم سے انجام پایا۔ 34 سالہ پورنم کمار کا تعلق مغربی بنگال کے علاقے رشڑا سے ہے اور ان کے اہلِ خانہ کو امید تھی کہ، سفارتی کوششیں ان کی رہائی میں مؤثر ثابت ہوں گی۔