‘پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی ہے’، وزیر اعظم پاکستان کا صنعتی شعبے کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 4.4 روپے کمی کا اعلان

اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے جمعہ کے روز صنعتی شعبے کی پیداواری صلاحیت اور برآمدات میں اضافے کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 4.4 روپے کمی کا اعلان کیا۔ اس تقریب میں ملک کے نمایاں برآمد کنندگان اور کاروباری شخصیات شریک ہوئیں۔

وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 4.4 روپے کی کمی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ فیصلہ مکمل طور پر ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ بجلی کی قیمت میں مزید 10 روپے کمی کرنا چاہتے، تاہم بعض مجبوریوں کے باعث ایسا ممکن نہیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ صنعتی شعبے کے لیے وہیلنگ چارجز میں کمی کی جا رہی ہے اور یہ نرخ 9 روپے فی یونٹ سے کم ہوں گے، جس سے صنعتوں کو یہ سہولت ملے گی کہ وہ اپنی پیدا کردہ بجلی قریبی صنعتوں کو فروخت کر سکیں۔

وزیرِ اعظم پاکستان نے مزید بتایا کہ برآمدات کو فروغ دینے کے لیے اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے تعاون سے ایک اور اہم فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت ایکسپورٹ ری فنانس ریٹ کو 7.5 فیصد سے کم کرکے 4.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے برآمد کنندگان کو مالی سہولت ملے گی اور عالمی منڈی میں مسابقت بڑھانے میں مدد ملے گی۔

خطاب کے آغاز میں وزیر اعظم پاکستان نے کاروباری رہنماؤں اور بڑے برآمد کنندگان کی محنت اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ برس اپنے اپنے شعبوں میں اہم کامیابیاں حاصل کیں اور ملک کے لیے اربوں روپے کمائے، جس پر پوری قوم انہیں مبارکباد دیتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2023 میں پاکستان شدید معاشی بحران کا شکار تھا اور ملک کے دیوالیہ ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے، جو پوری قوم کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے پیرس میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس موقع پر ماضی کے پروگراموں میں پاکستان کی عدم تسلسل پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے آئی ایم ایف سربراہ کو ذاتی ضمانت دی کہ حکوم ت معاہدے پر مکمل عمل درآمد کرے گی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اسی یقین دہانی کے بعد پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے میں مدد ملی۔

موجودہ معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے بتایا کہ تیسرے سہ ماہی میں زرمبادلہ کے ذخائر میں دوگنا اضافہ ہوا ہے، اگرچہ اس میں دوست ممالک کے قرضے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ مختلف ممالک کا دورہ کیا، آئی ایم ایف پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور مالی معاونت کی درخواست کی۔ انہوں نے چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا، جنہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اب بغیر کسی ہچکچاہٹ کے یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افراطِ زر سنگل ڈیجٹ میں آ چکی ہے اور پالیسی ریٹ 10.5 فیصد ہے، جبکہ ایک وقت تھا جب شرحِ سود 21 سے 22 فیصد تک پہنچ گئی تھی اور مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتکاروں اور تاجروں نے اس مشکل دور میں حالات کا مقابلہ کیا اور بہتری کی امید قائم رکھی۔

تاہم وزیرِ اعظم نے خبردار کیا کہ صرف معاشی استحکام کافی نہیں۔ انہوں نے غربت اور بے روزگاری میں اضافے، کم منافع والی برآمدات اور پیداواری لاگت زیادہ ہونے کے باعث عالمی منڈی میں مسابقت کے مسائل کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کو احکامات نہیں دے سکتی، اس لیے پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کی سرپرستی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر ان کی معاونت کرنی ہوگی۔

وزیرِ اعظم نے کاروباری برادری کے وژن اور عزم پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہی قیادت آئندہ چند برسوں میں پاکستان کی معیشت کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تقریب کے دوران انہوں نے اعزاز حاصل کرنے والے برآمد کنندگان کو بلیو پاسپورٹ دینے اور انہیں ’’ایمبیسیڈر ایٹ لارج‘‘ قرار دینے کا بھی اعلان کیا۔

اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ قومی ایئرلائن جلد اپنی سابقہ شان بحال کر لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پی آئی اے دنیا کی صفِ اول کی ایئرلائنز میں شمار ہوتی تھی، اور اب اسے دوبارہ اسی مقام تک لے جانا ضروری ہے۔ انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری میں کامیاب ہونے والے کنسورشیم کے سربراہ عارف حبیب پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس عمل میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں