عسکری قیادت کی وزیراعظم شہباز شریف کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ صورتحال پر بریفنگ

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جمعہ کے روز راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں عسکری قیادت نے انہیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں مبینہ بلااشتعال حملوں کے بعد ’’غضب لِلحق‘‘ کے نام سے کارروائی شروع کی ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، شہباز شریف نے کہا کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے’ گٹھ جوڑ’ اور ان کی مذموم کارروائیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے۔ فتنہ الخوارج وہ اصطلاح ہے جو ریاست کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ دہشت گردوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ افغان طالبان حکومت اور فتنہ الخوارج کی جانب سے پاکستان کے خلاف کی جانے والی سرگرمیاں کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی مسلح افواج، چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر کی قیادت میں، ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اچھی طرح جانتا ہے کہ کسی بھی حملے کے خلاف اپنا دفاع کیسے کرنا ہے۔

شہباز شریف نے سرحدی علاقوں میں افغان طالبان کے حملوں کو ناکام بنانے اور بھرپور جوابی کارروائی کرنے پر مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ وطن کے دفاع کے لیے پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں