پاکستان اور ازبکستان کا بحری تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق

پاکستان اور ازبکستان نے بحری تعاون کو وسعت دینے اور نیلی معیشت، گرین شپنگ، اور علاقائی تجارتی رابطوں کو فروغ دینے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی وزیر برائے بحری امور، جناب محمد جنید انوار چوہدری اور پاکستان میں تعینات ازبک سفیر کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں کیا گیا۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے کراچی اور گوادر جیسے اہم بندرگاہی شہروں کے ذریعے ازبکستان کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ جنید انوار چوہدری نے ازبکستان کو پاکستان کی جدید بندرگاہوں، سڑکوں، اور ریل کے نیٹ ورک سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی تاکہ وسطی ایشیائی ممالک کو بحیرہ عرب سے مؤثر طریقے سے جوڑا جا سکے۔

بات چیت کے دوران نیلی معیشت کے مختلف پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا جن میں فشریز، آبی زراعت، سمندری خوراک، اور ساحلی سیاحت شامل ہیں۔ پاکستانی وزیر نے تجویز دی کہ اگر ازبکستان اور قازقستان کی خشک بندرگاہوں کو پاکستان کے بندرگاہی نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے تو 20 ارب ڈالر سے زائد کی تجارت ممکن ہو سکتی ہے۔

اس موقع پر مربوط لاجسٹک نظام، بانڈڈ ویئرہاؤسز، ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ، اور اسمارٹ پورٹس جیسے جدید بحری انفراسٹرکچر پر بھی تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ جنید انوار چوہدری نے ازبک سرمایہ کاروں کو پاکستان کی جہاز سازی، بندرگاہی ترقی، اور سمندری توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور اس ملاقات کو دوطرفہ بحری تعلقات کے لیے سنگ میل قرار دیا۔

ازبک سفیر نے فشریز اور سمندری خوراک کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی اور پاکستان میں ازبک تجارتی سامان کے لیے ایک آف ڈاک ٹرمینل مختص کرنے کی تجویز پیش کی۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں