پاکستان اور ازبکستان نے باہمی اقتصادی شراکت داری کو نئی سطح پر لے جانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، فارماسیوٹیکل اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کو تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیوف کی وزیراعظم پاکستان کے صنعتی امور کے خصوصی معاون و وزیرِ صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (RCCI) کے صدر عثمان شوکت سے ہونے والی اہم ملاقات کے دوران یہ پیش رفت سامنے آئی۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون میں توسیع، تجارتی و اقتصادی روابط کا فروغ، متبادل ٹرانزٹ اور لاجسٹکس راستوں کی ترقی اور ازبکستان اور پاکستان کے درمیان ایوی ایشن کارگو سروسز کے جلد آغاز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادری براہِ راست روابط کے ذریعے باہمی تجارت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہے۔

اس موقع پر آر سی سی آئی نے اپنے حالیہ کاروباری مشن کی جامع رپورٹ بھی ازبک سفیر کو پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ پاکستان کے 150 سے زائد تاجروں نے ازبکستان کا دورہ کیا اور 10 نومبر کو تاشقند میں منعقدہ انٹرنیشنل اچیومنٹ ایوارڈز اینڈ بزنس اپرچونٹیز کانفرنس 2025 میں حصہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق اس مشن نے دونوں ممالک کے کاروباری شعبوں کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں مشترکہ منصوبہ جات کے نئے مواقع پیدا ہوئے اور سرمایہ کاری، صنعت، زراعت اور لاجسٹکس کے شعبوں میں مفاہمت کی بنیاد رکھی گئی۔
ملاقات میں حکام نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ازبکستان اور پاکستان تیز رفتار معاشی پیش رفت اور سفارتی تعاون کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ مستقبل میں بڑے اقتصادی منصوبے، نئے تجارتی انتظامات اور کاروباری سہولتوں کے فروغ سے دونوں ممالک کی معاشی شراکت داری مزید مضبوط ہوگی اور نجی شعبے کے لیے نئی راہیں کھلیں گی۔