چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جن میں بیجنگ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان بات چیت کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور سکیورٹی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
پاکستانی اخبار ٹریبیون کے مطابق پاکستان نے مذاکرات کے آغاز پر افغان طالبان کے سامنے تین اہم مطالبات رکھے ہیں۔ ان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دینا، اس کے ڈھانچے کو ختم کرنا اور اس حوالے سے قابلِ تصدیق شواہد فراہم کرنا شامل ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے تاحال صرف اتنا کہا ہے کہ ارومچی میں مذاکرات ہو رہے ہیں، تاہم ایجنڈے یا پیش رفت سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں جبکہ ہماری درخواست پر افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی اس معاملے پر فی الحال بات کرنے سے معذرت کی ہے۔
گزشتہ ہفتہ وار بریفنگ میں ترجماندفتر خارجہ پاکستان طاہر اندرابی نے واضح کیا تھا کہ ان مذاکرات میں شرکت کو پالیسی میں کسی تبدیلی کے طور پر نہ دیکھا جائے، اور ملک میں جاری سکیورٹی آپریشن بدستور جاری رہے گا۔
ادھر افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بات چیت جاری ہے اور طالبان حکومت پاکستان کے ساتھ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔
ذرائع کے مطابق چین پس پردہ سرگرم کردار ادا کر رہا ہے اور اس کے خصوصی نمائندے یوے شیاؤ یونگ حالیہ مہینوں میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان رابطے کر کے اختلافات کم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس مرحلے پر مذاکرات کا دائرہ کار انسدادِ دہشت گردی اور سرحدی سکیورٹی تک محدود رہے گا، جبکہ وسیع تر سیاسی معاملات زیرِ بحث نہیں آئیں گے۔ توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
اطلاعات کے مطابق ایک مجوزہ فریم ورک پر بھی غور ہو رہا ہے، جس میں جنگ بندی، دہشت گردی کے خلاف یقین دہانیاں، افغانستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کا خاتمہ اور محفوظ تجارتی راستوں کی فراہمی جیسے نکات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ اور منظم مذاکراتی نظام قائم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔
دونوں جانب سے تکنیکی سطح کے وفود ارومچی پہنچے ہیں۔ پاکستان کے وفد کی قیادت دفتر خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری سید علی اسد گیلانی کر رہے ہیں، جبکہ افغان وفد کی سربراہی محب اللہ واسع کر رہے ہیں۔
ٹریبیون کی خبر میں کہا گیا ہے کہ فی الحال چینی حکام دونوں فریقین سے الگ الگ ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ اختلافات کم کیے جا سکیں، جس کے بعد باضابطہ مذاکرات کا امکان ہے۔