پاک افغان جنگ: ذمہ دار کون؟

دو مسلمان ممالک کے درمیان جنگ، وہ بھی رمضان کی مبارک ساعتوں میں، دل لہو ہو جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟

پاکستان کا کیا قصور ہے؟ وہ دہشت گردی کا شکار ہوا تو اس نے افغانستان سے صرف اتنا سا مطالبہ کیا کہ اپنی سرزمین دہشت گردی میں استعمال نہ ہونے دی جائے۔ کیا یہ مطالبہ ناجائز تھا؟

وطن عزیز میں کچھ معززین ایسے ہیں جو پاکستان پر حملہ ہو تو گونگے شیطان بن جاتے ہیں اور پاکستان جواب دے تو یہ میٹھے میٹھے اقوال زریں سنانا شروع کر دیتے ہیں کہ جنگ اچھی چیز نہیں۔ ان سے بہ صد ادب یہ پوچھا جانا چاہیے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان پر بیک وقت کئی اطراف سے حملہ کرد یا جائے، پاکستان کیا کرے؟ وہ جواب نہ دے تو اس کے علاوہ کیا آپشن باقی بچتا ہے؟

امن کے یک طرفہ بھاشن بھی سر آنکھوں پر۔ لیکن کیا پاکستان نے امن کے لیے کوششیں نہیں کیں؟ مذاکرات کی ایک طویل فہرست ہے، خود بھی مذاکرات کیے ، دوست ممالک کو بھی شامل کیا، براہ راست درخواستیں بھی کیں۔ اور مانگا بھی تو کیا؟ صرف یہ کہ اپنی زمین سے دہشت گردوں کو پاکستان پر حملہ آور ہونے کی اجازت نہ دیں۔

جواب کیا آیا؟ وہ سرے سے مکر گئے کہ ایسا کچھ ہو ہی نہیں رہا۔ آج کی دنیا میں کیا حقائق کو اس طرح چھپایا جا سکتا ہے؟ چلیں پاکستان کی بات نہ مانیں، یہ دیکھ لیں کہ اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کیا کہہ رہی ہے؟ اس رپورٹ میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں نے پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں اور خطے کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ اب اگر کوئی سمجھتا ہے کہ پاکستان بھی جھوٹا اور اقوام متحدہ بھی جھوٹی اور سچ صرف وہ ہے جو افغان حکومت کے منہ سے ادا ہو تو ظاہر ہے علم اور دلیل کی دنیا میں اس رویے کا کوئی اعتبار نہیں۔

سماجی سطح پر بھی دیکھ لیجیے پاکستان میں افغانستان کے لیے عمومی خیر خواہی رہی۔ پاکستان کے ایک قومی روزنامے نوائے وقت پر اس سارے دورانیے میں افغان باقی کہسار باقی چھپتا رہا۔ ( شاید اب بھی چھپ رہا ہو)۔ افغانستان اور طالبان کے حق میں سب سے زیادہ پاکستان کے لکھاریوں نے لکھا۔ اتنا لکھا کہ خود افغانوں نے اتنا نہ لکھا ہو۔

ایسی کوئی خیر خواہی افغانستان کی جانب سے دکھا دیجیے۔ ادھر سے پاکستان کے لیے مسلسل اور لا متناہی نفرت کا الاؤ دہکتا رہا۔ ایک تکلیف دہ نسلی احساس تفاخر۔ اس نفرت کی وجہ یہ بتائی جاتی رہی کہ پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا۔ یعنی متن پڑھ لیا گیا لیکن حاشیہ پڑھنے کی کسی کو توفیق نہ ہو سکی۔ پاکستان اگر افغان طالبان کو دشمن سمجھتا ہوتا تو ان کے اقتدار میں آنے پر پاکستان میں ہر سطح پر خوشی کی لہر کیوں دوڑ گئی تھی؟ خیر خواہی نہ ہوتی تو خواجہ آصف یہ ٹویٹ کیوں کرتے کہ "طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے”۔

پاکستان نے تو ایسی غیر معمولی خیر خواہی دکھائی کہ اس کے اپنے معاشرے میں فالت لائنز پیدا ہو گئیں۔ یہ فالٹ لائنز اپنی ریاست سے زیادہ افغان حکومت کی خیر خواہ ہیں۔ پاکستان پر حملہ ہو تو یہ گونگی بہری ہو جاتی ہیں ۔ پاکستان جواب دے تو انہیں میٹھے میٹھے اقوال زریں یاد آ جاتے ہیں کہ جنگ اچھی چیز نہیں۔ جنگ بلاشبہ اچھی چیز نہیں لیکن ذمہ دار کون ہے؟

امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا، پاکستان کے لیے مشکل تھا کہ براہ راست امریکہ سے تصادم مول لے لیتا لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ پاکستان نے اپنی بساط سے بڑھ کر طالبان کا ساتھ دیا اور کیسے دیا۔ اس کے باوجود اگر پاکستان کا وجود گوارا نہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ اصل حملہ آور امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدہ کیوں کیا گیا؟ اس کی فوجوں کو افغانستان سے بہ حفاظت واپس کیوں جانے دیا گیا؟ انہیں بھی پکڑ کر گرفتار کر لیا ہوتا۔ نیز یہ کہ اب بھی اسی امریکہ سے ڈالر کیوں وصول کیے جاتے ہیں؟ یہ عجیب استدلال ہے کہ امریکہ بھی گوارا ہےا ور بھارت سے بھی یارانہ ہے، بس ایک پاکستان ہی دشمن ہے۔ اس کے لیے کوئی امان نہیں ۔ وہ صرف نفرت کا مستحق ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں