پاکستان اور افغانستان کے درمیان تقریباً ڈیڑھ ماہ سے جاری کشیدگی کے تھم جانے اور برف پگھلنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے حکام آج چینی شہر اورومچی میں ملاقات کریں گے، جو گزشتہ سال اکتوبر میں ترکیہ اور قطر میں ہونے والی بات چیت کے بعد پہلی باضابطہ ملاقات ہوگی۔
یہ پیش رفت چینی نمائندے یوئے شیاویونگ کی ان ملاقاتوں کا نتیجہ بتائی جا رہی ہے جو انہوں نے حالیہ تنازع کے دوران دونوں ممالک کے حکام سے کیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ بات چیت گزشتہ سال اکتوبر میں قطر اور ترکیہ میں ہونے والے مذاکرات کا تسلسل ہے، جن میں دونوں ممالک نے جنگ بندی سمیت کئی امور پر اتفاق کیا تھا۔
ادھر گزشتہ روز جامعہ پشاور کے ایریا سٹڈی سنٹر میں قبائلی، سیاسی اور سماجی رہنماؤں پر مشتمل ایک جرگہ بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ شرکا نے پائیدار امن کی بحالی کے لیے ایک فریم ورک پر اتفاق کرتے ہوئے مقتدرہ حلقوں سے مذاکرات پر زور دیا۔
جرگہ کے ارکان کے مطابق وہ افغان رہنماؤں سے بھی رابطہ کریں گے تاکہ وہاں سے بھی امن کے لیے کوششیں تیز کی جا سکیں۔ علاوہ ازیں، پاک افغان طورخم سرحد بھی مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے کھول دی گئی ہے۔ گزشتہ روز سرحدی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سرحد کے قریب کسی بھی صورت اسلحے کی نمائش سے گریز کیا جائے گا۔
چین میں ہونے والی یہ بات چیت چینی حکام کی ثالثی میں ہوگی، جس میں پاکستان اور افغانستان کے وہی نمائندے شریک ہونے کا امکان ہے جو گزشتہ مذاکرات کا حصہ تھے۔