پاکستان اور افغانستان کے درمیان اکتوبر کے مہینے میں سخت سرحدی جھڑپوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے تاجروں کے ساتھ ساتھ طالب علموں کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ افغانستان کی میڈیکل یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم درجنوں پاکستانی طلبہ کا تعلیمی تسلسل سرحدی گزرگاہیں بند ہونے کی وجہ سے تعطل کا شکار ہے۔ یہ طالب علم تعطیلات اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان اپنے گھروں کو لوٹے تھے اور اب سرحدی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہونے کے منتظر ہیں۔
افغانستان کی بایزید روخان یونیورسٹی کے تیسرے سمسٹر کے طالب علم اقبال آفریدی بھی امتحانات دینے کے بعد پاکستان آئے تھے تاکہ خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے علاوہ اپنے لیے نیا ویزا بھی لگوا سکیں۔ تاہم سرحدوں پر غیر یقینی صورتحال کے باعث ان کی واپسی کے راستے بند ہو گئے ہیں۔
اقبال آفریدی نے تاشقند اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’افغانستان میں ایک سمسٹر 16 ہفتوں پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں 12 ہفتے حاضری کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ اس وقت جامعات میں امتحانات جاری ہیں، جن میں اگر کوئی طالب علم تین پرچوں میں غیر حاضر رہا تو اس کا سمسٹر ضائع ہو جائے گا اور اسے مجبوراً دوبارہ داخلہ لینا پڑے گا۔‘‘
سمسٹر ضائع ہونے کی صورت میں ان طالب علموں کو جہاں اضافی فیس ادا کرنی پڑتی ہے، وہیں بیرونِ ملک مزید چھ ماہ قیام کا بوجھ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اقبال آفریدی کے مطابق ’’اس سرحد پر عام حالات میں بھی سہولت کے ساتھ گزرنا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔ اکتوبر میں ہمارے ایک دوست کے والد کا انتقال ہوا، مگر وہ جنازے میں بھی شریک نہ ہو سکا۔ ہم طویل عرصے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ سرحدی گزرگاہوں پر طالب علموں کے لیے الگ راستے کا انتظام کیا جائے۔‘‘
جلال آباد کی سپین غر یونیورسٹی میں زیرِتعلیم ایک اور طالب علم ولید اکرام بھی نیا ویزا لگوانے کی غرض سے اپنے وطن پاکستان آئے تھے۔ انہوں نے تاشقند اردو کو بتایا کہ ’’افغانستان کی جامعات میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے زیادہ تر پاکستانی طلبہ غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ فیسوں میں نسبتاً کمی کی وجہ سے یہ طلبہ چین، ازبکستان اور ترکیہ کے بجائے افغانستان کا انتخاب کرتے ہیں۔ ایسے میں سمسٹر فیس دوبارہ جمع کرانا ان کے لیے انتہائی مشکل ہو گا۔‘‘
ولید اکرام کا کہنا تھا کہ ’’ان طالب علموں کے قیمتی سال پہلے ہی پاکستان میں میڈیکل کالجوں میں داخلے کے انتظار میں ضائع ہو چکے ہوتے ہیں۔ مزید وقت کا ضیاع ان کے مستقبل کو غیر یقینی بنا سکتا ہے۔ عمر میں اضافے کے باعث آگے چل کر روزگار کے حصول میں بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اس لیے سرحد کھلنے کی صورت میں ان طلبہ کے لیے دوبارہ امتحانات کا اہتمام کیا جائے اور فیسوں میں رعایت بھی دی جائے۔‘‘
بایزید روخان یونیورسٹی کے پہلے سمسٹر کے طالب علم اظہاراللہ بھی جولائی کے مہینے میں پاکستان آئے تھے، تاہم اسی دوران حالات کشیدہ ہونے کے باعث ان کے لیے واپسی ممکن نہ رہی۔ اظہاراللہ کے مطابق وہ مڈ ٹرم امتحانات میں بھی غیر حاضر رہے اور تاحال واپس نہیں جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’اس وقت پریشانی صرف پاکستان میں محصور طلبہ کو ہی نہیں بلکہ افغانستان میں موجود ان طالب علموں کو بھی درپیش ہے جو گھریلو ذمہ داریوں، فوتگیوں اور ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود پاکستان نہیں آ سکتے۔‘‘
ہم نے اس معاملے پر ترجمان دفتر خارجہ پاکستان طاہر اندرابی سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ’’ہم اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے سفارتخانے اور قونصل خانے طلبہ کے مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے ہر وقت دستیاب ہیں، اور تمام متاثرہ طالب علموں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی۔‘‘
دوسری جانب افغانستان کی عبوری حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی جانب سے مستقل یقین دہانی کے بغیر سرحدی گزرگاہوں کی بحالی ممکن نہیں۔ امارتِ اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تاشقند اردو کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ‘یہ راستے ہماری جانب سے بند نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھی بڑی تعداد میں طالب علم اس مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ اس کے برعکس اسلام آباد سے کابل کے لیے فضائی راستہ باآسانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔’
@15784055165096