پاک-افغان سرحدی کشیدگی، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

جمعہ کی شب تقریبا 8 بجےافغان طالبان نے پاک افغان سرحد پر پاکستانی فوج کے مختلف چوکیوں پر حملے کیے۔ افغان حکام نےموقف اختیار کیاکہ یہ21 اور 22 فروری کی درمیانی شب پاکستان کی جانب سے کی گئی فضائی کارروائیوں کا جواب ہے۔

افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان میں ان حملوں کا باضابطہ اعلان کیا اور کہا کہ منصوری اور خالد بن ولید کور کی جانب سے کارروائیاں جا ری ہیں۔ بعد ازاں پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے اپنے اعلامیے میں ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان نے خیبر پختونخوا میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے متعدد مقامات پر ’بلااشتعال فائرنگ‘ کی، جس کا پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بھرپور جواب دیاہے۔

وزارتِ اطلاعات کے مطابق طالبان حکومت کو چترال، خیبر، مہمند، کُرم اور باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے سخت ردِعمل دیا گیا۔ دوسری جانب ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر اپنے بیانات میں دعویٰ کیا کہ طالبان فورسز نے متعدد پاکستانی چیک پوسٹس کو تباہ کیا اور بعض پر قبضہ بھی کر لیا ہے۔ تاہم پاکستان نے ان تمام دعوؤں کی تردید کی اور اسے پراپیگنڈا قرار دیا۔

وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری کی گئی ابتدائی تفصیلات کے مطابق، پاکستان نے افغان طالبان کے 72 اہلکاروں کو ہلاک کیااور 16 پوسٹس تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ کئی پر قبضہ کرنے کا بھی دعوی کیا۔ اس دوران افغانستان میں پاک فضائیہ کے طیاروں کی جانب سے متعدد حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ وزارتِ اطلاعات نے تصدیق کی کہ پاکستان ایئر فورس نے کابل، پکتیکا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایاہے۔ اعلامیے کے مطابق ان حملوں میں دو کور ہیڈکوارٹر، دو اسلحہ ڈپو، ایک لاجسٹک گودام، تین بٹالین ہیڈکوارٹر، دو سیکٹر ہیڈکوارٹر اور 80 سے زائد ٹینک تباہ کیے گئے۔ بعد ازاں، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ان حملوں کی تصدیق کی۔

پاکستانی حکام نے اب تک کی فوجی کارروائیوں میں طالبان حکومت کے 133 اہلکاروں کی ہلاکت اور 200 کے زخمی ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

جمعے کی صبح اٖفغانستان کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ایک بیان میں پاکستان کے مختلف شہروں میں کارروائیوں کا دعوی کیا گیا۔ جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘آج تقریبا صبح 11 بجے وزارتِ قومی دفاع کی فضائیہ نے مربوط فضائی حملے کیے، جن میں اسلام آباد کے قریب فیض آباد میں واقع ایک فوجی کیمپ، نوشہرہ میں ایک فوجی اڈا، جمرود میں عسکری پوزیشنز اور ایبٹ آباد کے دیگر مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔’

بیان کے مطابق ‘یہ فضائی کارروائی کامیابی سے مکمل کی گئی، جس دوران پاکستانی فوج کے اہم اڈوں، کمانڈ سینٹرز اور اسٹریٹجک تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔ یہ حملے گزشتہ رات پاکستانی افواج کی جانب سے کابل، قندھار اور پکتیا میں کی جانے والی فضائی دراندازیوں کے جواب میں کیے گئے۔’

تاہم، عالمی برادری نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے بھی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک بین الاقوامی قانون، خصوصا انسانی ہمدردی کے قوانین کی مکمل پاسداری کریں اور شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح بنائیں۔

ایران، روس اور چینی حکام نے بھی دونوں ممالک سے تحمل کی اپیل کرتے ہوئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں