عام طور پر جوڑوں کے درد، سر درد کے لیے استعمال ہونے والی دوائیں، جو جسم میں درد اور سوزش کو کم کرتی ہیں، بعض اوقات دل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
یہ دوائیں اگر طویل مدت تک لی جائیں تو دل پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں اور ہارٹ اٹیک یا فالج کے امکانات بڑھا سکتی ہیں۔ دل کے مریضوں کے لیے یہ خاص طور پر خطرناک ہو سکتی ہیں۔
ان دواؤں کا اثر خون پر بھی پڑتا ہے۔ یہ خون میں دباؤ بڑھا سکتی ہیں اور خون کے جمنے کے عمل کو تیز کر سکتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور دل کے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ صرف چند دنوں کے استعمال سے بھی دل کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعض تحقیقوں میں دیکھا گیا کہ کچھ دواؤں کے مریضوں میں صرف ایک ہفتے کے استعمال کے بعد بھی دل کے دورے کے امکانات بڑھ گئے۔
یہ دوائیں جسم میں ایسے اجزاء کی پیداوار کو کم کر دیتی ہیں جو خون کی نالیوں کو نرم رکھتے ہیں۔ نالیوں کی سختی اور خون کی گاڑھت دل کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور دل پر دباؤ بڑھتا ہے۔
اگر کوئی دل کا مریض ہے اور خون پتلا کرنے والی دوا استعمال کر رہا ہے یا ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر یہ دوائیں بند کر دے تو یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ کیونکہ خون پتلا کرنے والی دوا دل کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔