اوپن اے آئی کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں کمپنی نے اپنا نیا فاؤنڈیشن ماڈل جی پی ٹی-5.4 متعارف کرایا ہے، جسے پیشہ ورانہ کاموں کے لیے اب تک کا سب سے زیادہ مؤثر اور طاقتور ماڈل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس نئے ماڈل کو تین مختلف انداز میں پیش کیا گیا ہے جن میں معیاری ورژن، جی پی ٹی-5.4 تھنکنگ نامی ریزننگ ماڈل اور جی پی ٹی-5.4 پرو شامل ہیں، جسے زیادہ رفتار اور کارکردگی کے لیے بہتر بنایا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل خاص طور پر تحقیق، مالیاتی تجزیے، قانونی جائزے اور طویل منصوبہ بندی جیسے پیچیدہ پیشہ ورانہ کاموں میں نمایاں صلاحیت رکھتا ہے۔
اس ماڈل کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا غیر معمولی کانٹیکسٹ ونڈو ہے جو اے پی آئی ورژن میں ایک ملین ٹوکن تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ماڈل بیک وقت بہت زیادہ معلومات کو سمجھنے اور اس پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو کہ اس سے پہلے کسی بھی ماڈل میں اس سطح پر دستیاب نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ہی اوپن اے آئی نے ٹوکن ایفیشنسی میں بھی نمایاں بہتری کا دعویٰ کیا ہے، یعنی یہ ماڈل پہلے کے مقابلے میں کم ٹوکن استعمال کرتے ہوئے وہی مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے لاگت اور وقت دونوں میں کمی آ سکتی ہے۔
بینچ مارک نتائج کے حوالے سے بھی جی پی ٹی-5.4 نے قابل ذکر کارکردگی دکھائی ہے۔ کمپیوٹر استعمال کے عالمی معیار کے ٹیسٹ او ایس ورلڈ ویریفائیڈ اور ویب ایرینا ویریفائیڈ میں اس نے ریکارڈ اسکور حاصل کیے ہیں۔ اسی طرح اوپن اے آئی کے جی ڈی پی ویَل نامی ٹیسٹ میں، جو علم پر مبنی پیشہ ورانہ کاموں کو جانچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اس ماڈل نے 83 فیصد تک کامیابی حاصل کی۔ ایک اور نمایاں کامیابی مرکور اے پیکس ایجنٹس بینچ مارک میں سامنے آئی جہاں اسے قانون اور مالیات سے متعلق پیشہ ورانہ مہارتوں کے امتحان میں سب سے آگے قرار دیا گیا۔ مرکور کے چیف ایگزیکٹو برینڈن فوڈی کے مطابق یہ ماڈل طویل المدتی اور پیچیدہ کاموں جیسے پریزنٹیشنز، مالیاتی ماڈلز اور قانونی تجزیے تیار کرنے میں غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
اوپن اے آئی نے اس ماڈل میں غلط معلومات اور ہیلوسینیشن کے مسئلے کو کم کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ کمپنی کے مطابق جی پی ٹی-5.4 میں انفرادی دعوؤں میں غلطی کے امکانات گزشتہ ماڈل جی پی ٹی-5.2 کے مقابلے میں تقریباً 33 فیصد کم ہو گئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر جوابات میں غلطیوں کا امکان 18 فیصد تک کم ہوا ہے۔ یہ بہتری خاص طور پر تحقیق اور پیشہ ورانہ شعبوں میں اس ماڈل کی قابلِ اعتماد حیثیت کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
اس کے ساتھ اوپن اے آئی نے اے پی آئی نظام میں ٹول سرچ نامی ایک نیا فیچر بھی متعارف کرایا ہے۔ اس سے پہلے ماڈل کو تمام دستیاب ٹولز کی تعریفیں پہلے سے فراہم کی جاتی تھیں جس سے ٹوکن کا زیادہ استعمال ہوتا تھا۔ اب ماڈل ضرورت کے مطابق ٹولز کی معلومات خود تلاش کر سکتا ہے جس سے رفتار اور لاگت دونوں میں بہتری آئے گی، خصوصاً ان نظاموں میں جہاں متعدد ٹولز استعمال ہوتے ہیں۔
حفاظتی پہلوؤں کے حوالے سے بھی ایک نئی جانچ متعارف کرائی گئی ہے جس میں ماڈل کے چین آف تھاٹ یعنی مسئلہ حل کرنے کے دوران اس کے اندرونی استدلال کو جانچا جاتا ہے۔ ماہرین کو خدشہ تھا کہ ریزننگ ماڈلز بعض حالات میں اپنے اصل استدلال کو چھپا سکتے ہیں، تاہم ابتدائی جائزوں کے مطابق جی پی ٹی-5.4 تھنکنگ ورژن میں دھوکہ دہی یا گمراہ کن استدلال کے امکانات کم دیکھے گئے ہیں۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ماڈل کی سوچ کے عمل کی نگرانی اب بھی ایک مؤثر حفاظتی طریقہ کار ثابت ہو سکتی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جی پی ٹی-5.4 کی آمد مصنوعی ذہانت کی صنعت میں ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے۔ بہتر کارکردگی، بڑی معلومات کو سنبھالنے کی صلاحیت، کم لاگت اور زیادہ درستگی جیسے عناصر اسے کاروباری، تحقیقی اور پیشہ ورانہ شعبوں کے لیے ایک طاقتور ٹیکنالوجی بنا سکتے ہیں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ ماہرین اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ ایسی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں شفافیت، احتیاط اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔