صدیوں سے افریقی غلاموں کی اولاد ہونے کی وجہ سے پسماندگی کا شکار’شیدی’ اب تاریخ میں ڈوبی ہوئی اپنی وراثت اور جدید تعلیم و ترقی کی جستجو کے درمیان ایک دوراہے پر کھڑے ہیں۔ یہ برادری سندھ کے شہری مراکز اور ساحلی دیہاتوں میں رہنے والی ایک نسلی اقلیت ہے ۔
آج شیدی آہستہ آہستہ لیکن مستقل مزاجی سے رکاوٹوں کو توڑ رہے ہیں، اور نوجوان نسل کی بڑھتی ہوئی تعداد اپنی کہانی نئے سرے سے لکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ تاہم کامیابیوں کے باوجود چیلنجز اب بھی برقرار ہیں، کیونکہ اعلیٰ تعلیم اب بھی بہت سے شیدی گھرانوں کے لیے ایک دور کا خواب بنی ہوئی ہے۔
پرائمری اسکول کے استاد جانب علی شیدی جیسے نوجوانوں کے لیے تعلیم ذاتی کامیابی سے بڑھ کر معنی رکھتی ہے۔ وہ سندھ کے ضلع قمبر شہداد کوٹ کے گاؤں لالو راونک کے پہلے فرد ہیں، جنہوں نے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اب وہ اپنی برادری کے لیے تعلیم کی راہیں کھولنے اور انہیں اس جانب متوجہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
تاشقند اردو سے گفتگو کرتے ہوئے جانِب علی شیدی نے اپنی برادری کو درپیش اہم تعلیمی چیلنجز کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارے نوجوان میٹرک کے بعد بہت کم ہی تعلیم جاری رکھتے ہیں۔ ڈرائیور،مکینک، اور کسان کی حیثیت سے زیادہ تر شیدی یومیہ اُجرت پر کام کرتے ہیں۔ تاریخی طور پر پسماندہ رہنے والی ہماری برادری کو مالی مشکلات کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دی جا سکی۔’
ان سے اس کی بنیادی وجوہات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ان کٹھن معاشی حالات کی طرف اشارہ کیا جن کا شیدی لوگ سامنا کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ‘ہماری برادری نہایت محدود وسائل اور اخراجات کے ساتھ زندگی گزارتی ہے۔ تعلیم، کاروباری سرگرمیاں اور ذاتی ترقی اکثر پس منظر میں چلی جاتی ہیں کیونکہ لوگ صرف گزارے کے لیے کمانے پر توجہ دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ مشقت کے کاموں کے لیے مشرقِ وسطیٰ چلے جاتے ہیں، اسی لیے تعلیم کو اہمیت نہیں دی جاتی۔’
بھارت کی ریاست گجرات میں شیدی برادری کو ‘خصوصی حیثیت’ حاصل ہے۔ پاکستان میں جانب علی شیدی کے مطابق ‘شیدی برادری کو خطے کی تاریخ میں اہم خدمات کے باوجود بڑی حد تک نظر انداز کیا گیا ہے۔ پاکستان میں شیدی آبادی تقریباً چار سے پانچ لاکھ کے درمیان ہے، جو زیادہ تر سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں آباد ہے۔’
بلوچستان کے علاقے مکران میں رہنے والے شیدی “مکرانی” کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ لیاری، بدین، ٹھٹھہ، قاسم آباد اور حیدرآباد میں بھی یہ برادری مقیم ہے۔
جانب علی شیدی کہتے ہیں کہ ‘حیدرآباد میں ایک گاؤں بھی ہے جسے شیدی گوٹھ کہا جاتا ہے، جہاں خالص تاریخی نسل سے تعلق رکھنے والے شیدی رہتے ہیں۔ پاکستان کی شیدی آبادی کا تقریباً 70 فیصد سندھ میں جبکہ باقی 30 فیصد بلوچستان میں آباد ہے۔’
اس میں کچھ خاندان ایسے ہیں جو ملازمت کی تلاش میں دیگر صوبوں کی طرف ہجرت کر چکے ہیں، لیکن یہ برادری اب بھی سندھ اور بلوچستان کے ان ساحلی علاقوں میں مضبوطی سے جڑی ہوئی ہے۔
اس برادری کی تاریخی اہمیت پر بات کرتے ہوئے جانب علی شیدی نے اپنے آبا و اجداد کے ورثے کا ذکر کیا، جو مختلف سلطنتوں میں خدمات انجام دیتے رہے اور مغلیہ دور کے دوران اہم کردار ادا کرتے رہے۔
انہوں نے خاص طور پر جنرل ہوش محمد شیدی المعروف ہوشو شیدی کا ذکر کیا، جنہوں نے 19ویں صدی میں برطانوی افواج کے خلاف سندھ کی تالپور فوج کی قیادت کی تھی اور آج بھی وہ ایک قومی ہیرو کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔
شیدی برادری کی ایک اور رکن اقصیٰ قمبرانی اس وقت انگلینڈ میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے تاشقند اردو کو بتایا کہ ‘فن ہمارے معاشرے کی روح ہے۔ چونکہ ہم ایک پسماندہ برادری ہیں، اس لیے ہم لوک موسیقی اور ثقافتی روایات میں سکون تلاش کرتے ہیں۔اس شعبے میں ہماری برادری نے مختار شیدی اور آکاش سرمد جیسی نمایاں شخصیات بھی پیدا کیں، جو کلاسیکی سندھی موسیقی کے گلوکار ہیں۔’
جانب علی شیدی نے مزید کہا کہ ان کی برادری نے دانشور بھی پیدا کیے ہیں، جن میں 1960 کی دہائی کے ایک مصنف محمد صدیق مسافر قابلِ ذکر ہیں۔ صدیق مسافر کی کتاب ‘ہولناک غلامی اور آزادی کے مناظر’میں انہوں نے شیدی برادری کی ہجرت کی تاریخ اور غلامی کے باعث برداشت کی گئی مشکلات کو اجاگر کیا ہے۔’
یہ برادری کھیلوں کے میدان میں بھی نمایاں رہی ہے، جن میں قاسم عمر جیسے نامور کھلاڑی شامل ہیں، جنہوں نے 1980 کی دہائی میں پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کی۔
جانب علی شیدی سمجھتے ہیں کہ ‘ان کی برادری میں مردوں اور عورتوں کا تناسب غیر متوازن ہے، جہاں مردوں کی تعداد تقریباً 70 فیصد ہے۔’
ان کے خیال میں اس فرق کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ‘شیدی مرد اکثر برادری سے باہر شادیاں کرتے ہیں تاکہ اپنی شناخت سے جڑے سماجی تعصبات سے بچ سکیں۔’
انہوں نے کہا کہ’ بدقسمتی سے ہماری سیاہ رنگت نے ہمیں معاشرے میں کمتر محسوس کروایا ہے۔ کچھ لوگ اپنی شناخت سے فاصلہ پیدا کرنے کے لیے برادری سے باہر شادیاں کرتے ہیں۔’
اقصیٰ قمبرانی نے اپنی برادری کی خواتین میں بڑھتی ہوئی خودمختاری پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہماری برادری میں عورتوں کی قدر کی جاتی ہے۔ ہم میں قدامت پسندی بہت کم ہے، غلامی اور برسوں کی جدوجہد نے ہمیں آزاد سوچ عطا کی ہے۔ میرا بیرون ملک تعلیم حاصل کرنا اسی تبدیلی کا ثبوت ہے۔’
برسوں بعد اس برادری کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی ملی تھی تو وہ تنزیلہ قمبرانی خاتون ہی تھی جنہوں نے 2018 میں پہلی شیدی ایم پی اے کے طور پر حلف اٹھایا تھا۔
اقصی قمبرانی کے مطابق ان کی برادری میں عورتوں کو بطور شہری مساوی حقوق دیے جاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے مالی مسائل ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔