سپریم کورٹ نے چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے۔ اس معاملے پر سماعت کے دوران مختلف ججوں اور وکلاء کے درمیان اہم نکات پر گفتگو ہوئی۔
جسٹس محمد علی مظہر نے یہ معاملہ چیف جسٹس کے پاس فُل کورٹ کے لیے بھیجنے کی طرف اشارہ کیا جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے وکیل درخواست گزار شروع سے ہی لڑنے کے موڈ میں ہیں، جس پر وکیل فیصل صدیقی نے وضاحت کی کہ ان کی نیت لڑائی کی نہیں۔
جسٹس امین الدین نے کہا کہ اگر کوئی فریق دلائل دینے کو تیار نہیں تو عدالت اپنا حکم جاری کرے گی، جبکہ جسٹس عائشہ ملک نے فُل کورٹ تشکیل دینے کے امکان پر تبصرہ کیا کہ اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم اختیارات کی تقسیم کے اصول کے خلاف ہے اور ایوان نامکمل ہونے کے باوجود ترمیم منظور کی گئی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ آیا دستیاب ممبران کی ووٹنگ ایوان کے دوتہائی اکثریت پر پوری اترتی ہے یا نہیں؟ اس پر وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ خیبر پختونخوا میں سینیٹ کی نمائندگی مکمل نہیں تھی اور سینیٹ انتخابات بھی باقی تھے۔
وکلاء نے مزید دلائل میں کہا کہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے فیصلے پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا اور یہ معاملہ بھی درخواست کا حصہ ہے۔ وکیل شاہد جمیل نے مؤقف اپنایا کہ آئینی ترمیم کا اختیار عوام کے حقیقی نمائندوں کے پاس ہونا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے اور فُل کورٹ کی تشکیل اور عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی درخواست پر مزید غور کا عندیہ دیا۔