اس سال کا نوبل انعام برائے طبیعیات تین سائنس دانوں کو دیا گیا ہے۔ ان میں جان کلارک، میشیل ڈیورے، اور جان مارٹینس شامل ہیں۔ انہیں یہ انعام کوانٹم کمپیوٹرز پر تحقیق کرنے پر دیا گیا۔
نوبل کمیٹی کا کہنا ہے کہ آج کی دنیا میں استعمال ہونے والی تقریباً ہر جدید ٹیکنالوجی چاہے وہ موبائل فون ہوں، کیمرے ہوں یا فائبر آپٹک تاریں، سب کی بنیاد کوانٹم طبیعیات کے اصولوں پر رکھی گئی ہے۔
یہ اعلان سوئیڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا۔
پروفیسر جان کلارک، جو برطانیہ میں پیدا ہوئے اور اس وقت یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں کام کر رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ میری زندگی کا سب سے بڑا حیران کن لمحہ تھا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میرا کام اس سطح پر سراہا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق، ان سائنس دانوں کی تحقیق نے کوانٹم کمپیوٹنگ کے شعبے میں نئی راہیں کھول دی ہیں۔ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت، طب اور خلا کے میدان میں انقلاب لا سکتی ہے۔
نوبل کمیٹی نے کہا کہ ان تینوں سائنس دانوں کا کام اس بات کی مثال ہے کہ سائنس کا نظریاتی علم کس طرح دنیا میں عملی تبدیلیاں لا سکتاہے