وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ خلیجی خطے میں جنگ اور تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کے باوجود پاکستان میں نہ تو بجلی کا بحران پیدا ہوا اور نہ ہی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت طویل المدتی توانائی منصوبہ بندی اور برآمدی حکمتِ عملی سے متعلق اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث بجلی کی صورتحال مستحکم رہی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی اور دیگر متبادل ذرائع مستقبل میں توانائی کے شعبے کی بنیاد ہوں گے، اور اس سلسلے میں جامع قومی حکمتِ عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ قابلِ تجدید توانائی کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں 55 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے جبکہ 45 فیصد فوسل فیول سے حاصل کی جا رہی ہے۔ منصوبہ بندی کے تحت آئندہ دس برسوں میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ بڑھا کر 90 فیصد جبکہ فوسل فیول کا حصہ کم کر کے 10 فیصد کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود کامیاب سفارتکاری کے نتیجے میں خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات کی فراہمی جاری ہے۔ انہوں نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کو ہدایت دی کہ سمندری راستوں سے برآمدات بڑھانے کے لیے جہازوں کا انتظام کیا جائے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ خلیجی ممالک میں پاکستانی زرعی مصنوعات کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ برآمدات کو آسان بنانے کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت متعدد وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔