ٹرمپ ٹیرف:چین کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کیلئے تیار نہیں، امریکہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سمیت دیگر ممالک پر جوابی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کے فیصلے پر ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ، جب تک چین کے ساتھ امریکہ کا تجارتی خسارہ حل نہیں ہوگا، وہ کسی بھی قسم کی ڈیل کے لیے تیار نہیں۔
عالمی اسٹاک مارکیٹس میں پیدا ہونے والی شدید مندی کے سوال پر ٹرمپ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ، کبھی کبھار آپ کو دوائی بھی لینی پڑتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ، چین کا ٹریڈ سرپلس (تجارتی منافع) ناپائیدار ہے، اور وہ اس سلسلے میں یورپی اور ایشیائی رہنماؤں سے بھی رابطے میں ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب عالمی منڈیوں میں زبردست مندی دیکھی گئی، اور امریکی اسٹاک مارکیٹ میں صرف دو روز میں سرمایہ کاروں کے تقریبا60 کھرب ڈالر ڈوب چکے ہیں۔ ڈاؤ جونز، نیسڈک اور ایس اینڈ پی 500 میں ریکارڈ گراوٹ نے معاشی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
چند روز قبل صدر ٹرمپ نے دنیا بھر کے کئی ممالک، بالخصوص چین، پر سخت تجارتی ٹیرف عائد کیے تھے۔ اس کے ردعمل میں چین نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی مصنوعات پر 34 فیصد تک اضافی ٹیرف لگا دیا، جبکہ امریکہ کی جانب سے چینی مصنوعات پر مجموعی 54 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر ان اقدامات کے اثرات کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر، کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ، عالمی معیشت پہلے ہی سست روی کا شکار ہے، اور اس نازک وقت میں امریکی ٹیرف مزید خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
اسی دوران امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین، جیروم پاول نے بھی خبردار کیا ہے کہ، ان محصولات سے مہنگائی بڑھے گی اور معاشی نمو کی رفتار متاثر ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دباؤ کے باوجود پاول نے شرحِ سود میں فی الحال کسی قسم کی کمی سے انکار کیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ، یہ اقدامات طویل المدتی فائدے کے لیے کیے جا رہے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ، اس تجارتی جنگ کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں کو ہلا سکتے ہیں، اور اس وقت جو ‘دوائی’ دی جا رہی ہے، وہ شاید مریض کو مزید کمزور کر دے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں