نِپاہ وائرس: بروقت اقدامات کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھا گیا ہے: بھارتی وزارتِ صحت

بھارتی حکام نے کہا ہے کہ مہلک نِپاہ وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کو قابو میں کر لیا گیا ہے۔ بھارت کی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے منگل کی رات جاری اپنے بیان میں تصدیق کی کہ ریاست مغربی بنگال میں نِپاہ وائرس کے دو کیسز سامنے آئے تھے، تاہم بروقت اقدامات کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھا گیا ہے۔

وزارتِ صحت کے مطابق، ان دونوں مریضوں سے منسلک 196 افراد کی نشاندہی کی گئی، ان کا سراغ لگایا گیا، مسلسل نگرانی کی گئی اور ان کے ٹیسٹ بھی کیے گئے، جن کی تمام رپورٹس نِپاہ وائرس کے حوالے سے منفی آئیں۔ وزارت نے واضح کیا کہ یہ بیان میڈیا میں آنے والی قیاس آرائیوں اور غلط اعداد و شمار کی وضاحت کے لیے جاری کیا گیا ہے۔

وزارتِ صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور تمام ضروری عوامی صحت کے اقدامات نافذ ہیں۔ بیان کے مطابق، نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کیا گیا ہے، لیبارٹری ٹیسٹنگ میں اضافہ کیا گیا ہے اور فیلڈ سطح پر تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

نِپاہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا ایک وائرس ہے، جس کی پہلی بار 1990 کی دہائی میں ملائیشیا میں نشاندہی ہوئی تھی۔ یہ وائرس عام طور پر پھل کھانے والے چمگادڑوں، خنزیروں اور انسان سے انسان کے درمیان رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے۔ اس وائرس کے لیے اب تک کوئی ویکسین دستیاب نہیں، جبکہ علاج صرف مریض کی حالت کو سنبھالنے اور پیچیدگیوں کو قابو میں رکھنے تک محدود ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، نِپاہ وائرس کی شرحِ اموات 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے، جو اسے کورونا وائرس کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک بناتی ہے۔ یہ وائرس تیز بخار، دورے، قے اور دیگر سنگین علامات کا باعث بن سکتا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، بھارت میں نِپاہ وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد کئی ایشیائی ممالک نے احتیاطی اقدامات کے طور پر بھارت سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ شروع کر دی ہے۔ چین نے سرحدی علاقوں میں بیماریوں سے بچاؤ کے اقدامات سخت کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ سرکاری میڈیا کے مطابق، طبی عملے کو خصوصی تربیت دی جا رہی ہے اور خطرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

انڈونیشیا اور تھائی لینڈ نے بڑے ہوائی اڈوں پر مسافروں کے لیے صحت کے گوشوارے، درجہ حرارت کی جانچ اور ظاہری علامات کی نگرانی کا عمل تیز کر دیا ہے۔ میانمار کی وزارتِ صحت نے مغربی بنگال کے غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے ہوائی اڈوں پر بخار کی نگرانی کے نظام کو مزید سخت کر دیا ہے، جو کورونا وبا کے دوران متعارف کرایا گیا تھا۔

ویتنام کی وزارتِ صحت نے بھی سرحدی گزرگاہوں، طبی مراکز اور کمیونٹیز میں نگرانی بڑھانے کی ہدایات جاری کی ہیں، جبکہ ملائیشیا نے بین الاقوامی داخلی راستوں پر صحت کی اسکریننگ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نِپاہ وائرس سے انسانوں میں پہلی بڑی وبا 1998 میں سامنے آئی تھی، جب ملائیشیا اور سنگاپور میں خنزیروں سے وابستہ کسان اور قصاب اس وائرس کا شکار ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس کے بعد بنگلہ دیش، فلپائن اور بھارت میں بھی اس وائرس کے پھیلاؤ کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

بھارت کی ریاست کیرالہ میں 2018 کے بعد سے تقریبا ہر سال نِپاہ وائرس کے کیسز سامنے آتے رہے ہیں، جس کے باعث یہ وائرس خطے کے لیے ایک مستقل عوامی صحت کے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں