ازبکستان کے شہر فرغانہ میں صنفی تشدد سے متاثرہ خواتین کے لیے نیا شیلٹر قائم

ازبکستان کے شہر فرغانہ میں صنفی بنیاد پر تشدد سے متاثرہ خواتین کے لیے ایک نیا شیلٹر قائم کیا گیا ہے۔ یہ اقدام خواتین اور بچیوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں اس نوعیت کے واقعات اب بھی عام ہیں۔

یہ شیلٹر اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) اور غیر سرکاری تنظیم "مہرجون” کے اشتراک سے قائم کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں ازبکستان کی پارلیمنٹ (اولی مجلس) کے انسانی حقوق کے محتسب کے دفتر، وزارتِ انصاف، مقامی حکام اور فن لینڈ کی حکومت کا مالی تعاون بھی شامل ہے۔ شیلٹر میں خواتین اور ان کے بچوں کے لیے محفوظ رہائش، سماجی، قانونی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ بحالی اور سماجی طور پر دوبارہ شمولیت کے پروگرام بھی چلائے جائیں گے تاکہ متاثرہ خواتین اپنا اعتماد بحال کر سکیں اور معاشرتی زندگی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

یو این ڈی پی کی نمائندہ برائے ازبکستان، اکیو فُجی نے اس موقع پر کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، ازبکستان میں ہر سال تقریباً 40 ہزار صنفی تشدد کے کیسز درج کیے جاتے ہیں، جن میں زیادہ تر متاثرہ افراد خواتین ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرغانہ میں شیلٹر کا قیام حکومت، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان شراکت اور یکجہتی کی علامت ہے۔

انسانی حقوق کے محتسب، فِروزہ اشمتووا نے اس موقع پر کہا کہ صنفی تشدد ازبکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف جسمانی اور نفسیاتی طور پر نقصان دہ ہیں بلکہ یہ خاندانوں کی فلاح و بہبود کو متاثر کرتا ہے اور خواتین کی سماجی، سیاسی اور معاشی شمولیت کو محدود کرتا ہے۔ ان کے مطابق، اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ریاست، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی اداروں کی مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے تاکہ ہر عورت اور بچی خوف و تشدد سے آزاد زندگی گزار سکے۔

یہ شیلٹر نہ صرف متاثرہ خواتین کو فوری مدد فراہم کرے گا بلکہ “مہرجون” تنظیم کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کرے گا تاکہ وہ مزید خواتین کو تحفظ اور رہائش فراہم کر سکیں۔ یہ منصوبہ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت "ازبکستان میں قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو مضبوط بنانے” کے عنوان سے جاری پروگرام کا حصہ ہے، جسے فن لینڈ کی حکومت کی مالی معاونت حاصل ہے

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں