‘پنجاب کے کلچر کو بے ہودگی کی نظر نہیں کیا جاسکتا ‘، تھیٹر میں اصلاح سے متعلق نیا قانون کیا ہے؟

پنجاب حکومت ان دنوں لاہور سمیت دیگر شہروں کی ثقافتی اور تہذیبی بحالی کے لیے کوشاں نظر آرہی ہے، اس سلسلے میں گزشتہ کچھ مہینوں کے اندر بڑے پیمانے پر سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا جبکہ شہروں کی تزئین وآرائش بھی کی گئی ہے۔ پنجاب کی وزیراطلاعات و ثقافت عظمی بخاری نے صحافیوں کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں اعلان کیا ہے کہ اس پالیسی کے تسلسل میں تھیٹرز کے لیے بھی نیا قانون آئندہ ہفتے متعارف کروایا جائے گا، جس کے تحت بنیادی اصلاحات نافذ العمل ہوں گے۔

تھیٹر سے متعلق قانون سازی میں کون سی تجاویز شامل ہیں اور اس کے پیچھے بنیادی مقصد کیا ہے؟ ان سوالوں کے جواب جاننے کے لیے تاشقند اردو نے عظمی بخاری سے بات چیت کی ہے جبکہ ثقافتی امور کے ماہرین کی آراء جاننے کی بھی کوشش کی ہے۔

تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ’ تھیٹر سے متعلق نیا قانون تیار ہوچکا ہے جس کو آئندہ ہفتے پنجاب کابینہ کے اجلاس سے منظور کردیا جائے گا۔نئی ترامیم سے متعلق فی الحال بتانا قبل از وقت ہوگا لیکن اس کے تحت پنجاب آرٹس کونسل کو ایک خود مختار ادارہ بنایا جائے گا جو تھیٹر سے متعلق اہم فیصلے خود کرسکے گا،اس میں ضلعی انتظامیہ کا کردار کم کیا جائے جبکہ پنجاب آرٹس کونسل کو مضبوط اور باختیار بنایا جائے گا’۔

وزیر اطلاعات وثقافت عظمی بخاری نے وزارت کا منصب سنبھالنے کے بعد مختلف تھیٹر اداکاروں اور مالکان سے ملاقاتیں کی تھیں اور اعلان کیا تھا کہ بے ہودہ ڈرامے پیش کرنے کی صورت میں تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد انہوں نے لاہور کے مختلف تھیٹرز کے دورے کرکے صورتحال کا جائزہ بھی لیا تھا۔

انہوں نے تاشقند اردو کو بتایا کہ’ میری پہلے دن سے ترجیح ہے کہ تھیٹر کو فیملی تھیٹر بنایا جائے۔تھیٹر میں ایسے ڈرامے پیش کیے جائیں جہاں فیملیز دیکھنے آئیں،میں تھیٹر سے فحاشی اور فحش گفتگو کا خاتمہ چاہتی ہوں۔’
‘اب تک پانچ تھیٹرز کو ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سیل کیا گیا ہے اورپانچ اداکاروں پر پابندی بھی عائد کی جاچکی ہے۔’

عظمی بخاری نے اس نئی قانون سازی کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ‘تھیٹر کی نئی پالیسی کا مقصد اس کواصل حالت میں بحال کرنا ہے۔پنجاب کا کلچر پوری دنیا میں اپنی پہچان رکھتا ہے اور اس کو فحاشی اور بیہودگی کی نظر نہیں کیا جاسکتا۔’

انہوں نے کہا کہ’ ہم الحمراء لاہور میں پرفارمنگ آرٹس اکیڈمی بھی بنانے جا رہے ہیں۔پنجاب بھر میں آرٹس کونسلز کی ساخت میں تبدیلی کی گئی ہے، جن میں تربیتی پروگرام بھی شامل ہوں گے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم سٹریٹ تھیٹرز پر تیزی سے کام کر رہے ہیں ، جس پر نومبر سے باقاعدہ کام شروع ہوگا۔’

نئی قانون سازی کے نتیجے میں تھیٹرز مالکان کی جانب سے ممکنہ ردعمل سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘ تھیٹر مالکان مکمل طور پر آن بورڈ ہیں، وہ بھی پنجاب آرٹس کونسل کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں۔کسی ممکنہ ردعمل کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی ۔ ‘

ثقافت کے شعبہ سے وابستہ صحافی اور تجزیہ کار حکومت کی جانب سے اس قدم کو قابل تحسین قرار دے رہے ہیں اور اس سے متعلق اپنی تجاویز بھی رکھتے ہیں۔

مختلف تفریحی پروگرامات کے روح رواں ، صحافی و تجزیہ کار طاہر سرور میر نے تاشقند اردو کو بتایا کہ’حکومت پنجاب 150 سالہ پرانے 1876کے قانون میں تبدیلی اور ترامیم کرنے جا رہی ہے، جس کے تحت ڈرامہ کی نمائش ہوتی ہے۔ اس پورے عرصے میں اس قانون میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوئی اور اسے از سرنو تشکیل نہیں دیا گیا’۔

وہ کہتے ہیں کہ’ موجودہ دور تھیٹر کی تاریخ کا بدترین دور ہے ۔ گزشتہ بیس سالوں میں یہ مادر پدر آزاد ہوا ہے اور اس میں بے ہودگی گھس آئی ہے۔عمومی طور پر کمزور افراد اس کا شکار ہوتے ہیں جو اخلاقیات اور نظم وضبط سے آزاد ہوتے ہیں۔ کوئی بھی ماہر فرد اس طرح ڈراموں میں اپنا کردا ر ادا نہیں کرسکتا ۔’
‘ماضی قریب میں امان اللہ اور سہیل احمد نے بھی تھیٹر کیے ہیں۔ اس میں فن،تفریح اور جگت سب شامل ہوتا تھا، جو اسے ایک بامقصد تھیٹر بناتا تھا۔ان لوگوں کے رخصت ہونے کے بعد کھلے میدان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ لوگ اکثر اس کا حصہ بن گئے جنہیں اپنا نام لکھنا بھی نہیں آتا’۔

طاہر سرورمیر سمجھتے ہیں کہ ‘در حقیقت اس بے ہودہ تھیٹر کلچر نے عورت کواپنے نظام سے نکال دیا ہے۔ ایسے گانے اور مواد کی تخلیق ہوئی جو ہر طبقے کے عورت کی نمائندگی نہیں کرتی۔یہ مواد ایک خاص قسم مردوں کی پیداوار ہے جو ہاتھ میں گلاس تھامے اس کے تماش بین بھی بنتے ہیں۔’

ان کا خیال ہے کہ ‘تھیٹر میں عوامی ماحول بھی ضروری ہوتا ہے۔ ماضی میں لاہورسمیت دیگر شہروں میں خواتین کےشوز ہوتے تھے جہاں وہ رات کو بلاکسی خوف و خطرکے بچوں سمیت شریک ہوتی تھی۔’

سینئر کلچرل صحافی عمران علی راج نے تاشقند اردو کو بتایا کہ’تھیٹر ہمارے ثقافت کا ایک اہم جز ہے ، کئی تھیٹرز اس وقت سبق آموز اور اصلاحی موضوعات پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم، گزشتہ بیس سالوں میں اس میں بیہودگی اور فحش گوئی نے جگہ بنائی ہے۔اس وجہ سے بڑے بڑے اداکار یہاں سے چھوڑ کر چلے گئے ‘۔

‘خالد اقبال ڈار، سہیل احمد، امان اللہ جیسے بڑے بڑےناموں کے ہوتے ہوئے نسیم وکی، امانت چن، افتخار ٹھاکر، سخاوت ناز اور سلیم البیلا جیسے اداکاروں نے اچھا کام کیا۔ان میں اکثریت اس وقت ٹی شوز میں کام کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے تھیٹر اسی بے ہودہ کلچر کی وجہ سے چھوڑا۔’

عمران راج تھیٹر میں رائج غیر مہذب اداکاری کی وجہ سے کہتے ہیں کہ’ ثقافتی خبریں دیتےہوئے عرصہ گزرگیا لیکن تھیٹر جانے سے کتراتا ہوں، انتہائی کم وقت اس کو دیا ہوگا۔’

تھیٹر سے متعلق نئی قانون سازی پر انہوں نے کہا کہ’ گزشتہ حکومت نے بھی اس بابت کافی دھوڑدھوپ کی تھی۔ اس موضوع پر عظمی بخاری کے ساتھ ہونے والی نشست میں شامل تھا۔ ملاقات میں ان کو مختلف آراء کے ساتھ تجاویز دی گئیں۔ اس پر عمل درآمد حکومت کی اچھی کاوش سمجھی جائےگی۔’
عمران راج نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ’ تمام اچھے اداکار اور آرٹسٹ اس وقت ٹی وی پر کام کر رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ان کو مختلف منصوبوں کے ذریعے واپس لائیں اور انہیں نئےاور بہترین ڈراموں سمیت نیا ٹیلنٹ پیدا کرنے کاہدف دیں۔موجودہ کام کرنے والوں سے اچھے مواد اور اصلاحی ڈراموں کی توقع نہیں کی جاسکتی۔انہوں نے واپس اسی ماحول کو بحال کرنےکی کوششوں میں لگ جاناہے۔’

عمران علی راج نے دوسرے مرحلے میں تھیٹر کے اوقات کار پر کام کرنے کی بھی تجوزیزدی۔ وہ کہتے ہیں کہ’ اکثر تھیٹر مالکان رات دس بجے کے بعد ڈرامہ لگاتے ہیں،ایسے میں فیملیز کے لیے مناسب نہیں ہوگا ، رات ایک یا دو بجے وہی تماش بین آئیں گے جو اس وقت دیکھنے آتے ہیں۔’

کلچرل صحافی آفاق زیدی بھی حکومت کے اس قدم کو مناسب سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے تاشقند اردو کوبتایا کہ’گالم گلوچ اور فحش گوئی کے بجائے پنجاب کا کلچر پوری طرح تھیٹر کے ذریعے سامنے آنا چاہیے۔ اس مقصد میں کامیابی حکومت پنجاب کی بڑی کامیابی تصورکی جائے گی’۔

ان کا ماننا ہے کہ’ تھیٹر میں بنیادی چیز سکرپٹ ہے، معاملات وہاں خراب ہوتے ہیں جب سکرپٹ پر کنٹرول ختم ہوجاتا ہے۔ اس لیے سکرپٹ کے علاوہ اضافی تمام مواد پر پابندی لگ جائے تو اس بے ہودگی سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔اداکاروں کے لیے لازم قرار دیا جائے کہ وہ حرف بہ حرف مصدقہ سکرپٹ سے ایک لفظ اضافی نہیں بولیں گے۔’

تجزیہ کاروں کے علاوہ تھیٹر سے نام کمانے والے اداکار بھی حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

مشہور کامیڈی آرٹسٹ آغا ماجد نے تاشقند اردو کو بتایاکہ’ ہم تمام سینئر آرٹسٹ اس قانون کی حمایت کرتےہیں اور تھیٹر کی اصل حالات میں بحالی کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔’

وہ کہتے ہیں کہ’ حکومت پنجاب تھیٹر کے لیے جو کام کرے گی، ہم اس کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ میری عظمی صاحبہ سے تھیٹر پر ملاقاتیں ہوئی ہیں اور ان کو بھی اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے۔’

Author

اپنا تبصرہ لکھیں